ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Nishat-1 حادثے سے بال بال بچ گیا.    Newly posted SSPs in Punjab police visit PSCA, PPIC3.    "  لڑکیاں صرف ماں کی کوکھ یا پھر قبر میں محفوظ ہیں" طالبہ نے خودکشی کر لی.    "میں ناگن، تو سپیرا " پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل.    "منی ہائسٹ "(Money Heist )کاآخری حصہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ریلیز کیا جائے گا.    NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.   

غلطی تسلیم کرنے پر فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی ختم

ویب ڈیسک
25 Nov, 2022

25 نومبر ، 2022

ویب ڈیسک
25 Nov, 2022

25 نومبر ، 2022

غلطی تسلیم کرنے پر فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی ختم

post-title

 اسلام آباد:  سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف رہنما فیصل واوڈا کے مستعفی ہونے اور غلطی تسلیم کرنے پر تاحیات نااہلی ختم کردی۔

عدالت نے فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کو پانچ سال کی نااہلی میں تبدیل کر دیا، فیصل واوڈا نے سینیٹ کی نشست سے رضا کارانہ طور پر مستعفی ہونے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔

فیصل واوڈا نے سپریم کورٹ میں غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ غلط بیان حلفی پر افسوس اور شرمندہ ہوں۔

 چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں فیصل واوڈا کے بیان حلفی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے فیصل واوڈا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ کہہ دیں کہ اس وقت کے قانون کے مطابق آپ رکن اسمبلی بننے کے اہل نہیں تھے، 15 جون 2018 کو آپ نے امریکی شہریت ترک کرنے کی درخواست دی لیکن شہریت ترک کی نہیں تھی، غلطی تسلیم کرتے ہیں تو آپ موجودہ اسمبلی کی مدت شروع ہونے سے نااہل تصور ہوں گے۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے پوچھا کہ شہریت ترک کرنے کا سرٹیفکیٹ کب کا ہے اور اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ کب دیا؟ جس پر فیصل واوڈا نے بتایا کہ دوہری شہریت 25 جون 2018 کو ترک کی جبکہ قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ 30 مارچ 2021 کو دیا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ فیصل واوڈا نے 3 سال تک قومی اسمبلی کی رکنیت رکھی، عدالت کا مقصد آپ کو یہاں بلا کر شرمندہ کرنا نہیں ہے لیکن آپ نے تین سال تک سب کو گمراہ کیا، عدالت کے سامنے پہلے معافی مانگیں اور پھر کہیں کہ استعفیٰ دیتا ہوں۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ اگر عدالت کے سامنے معافی مانگ لیں گے اور اچھی نیت سے استعفی دیں گے تو نااہلی 5 سال کی ہو گی، استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں آپ کے خلاف 62 ون ایف کی کاروائی ہو گی۔

فیصل واوڈا نے عدالت میں بیان دیا کہ میں عدالت سے غیرمشروط معافی مانگتا ہوں، جھوٹا بیان حلفی دینے کی نیت نہیں تھی، عدالت کا جو حکم ہو گا وہ قبول ہو گا۔

جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دئیے کہ جو آپ سے کہا جا رہا ہے وہ عدالت کے سامنے خود کہیں، جس پر فیصل واوڈا نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں کہ اچھی نیت سے خود استعفیٰ دیا، آرٹیکل 63 ون سی کے تحت نااہلی تسلیم کرتا ہوں۔

فیصل واوڈا کی غیر مشروط معافی کے بعد سپریم کورٹ نے ان کی معافی تسلیم کرتے ہوئے تاحیات نااہلی کا حکم کالعدم کر دیا۔


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM