ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Nishat-1 حادثے سے بال بال بچ گیا.    Newly posted SSPs in Punjab police visit PSCA, PPIC3.    "  لڑکیاں صرف ماں کی کوکھ یا پھر قبر میں محفوظ ہیں" طالبہ نے خودکشی کر لی.    "میں ناگن، تو سپیرا " پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل.    "منی ہائسٹ "(Money Heist )کاآخری حصہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ریلیز کیا جائے گا.    NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.   

تانگہ

ویب ڈیسک
13 Jan, 2023

13 جنوری ، 2023

ویب ڈیسک
13 Jan, 2023

13 جنوری ، 2023

تانگہ

post-title

تحریر انور سلطانہ 

تانگہ۔۔۔۔شاید آج کل کی نسل اس نام سے واقف بھی نہییں ہوگی یا یوں

 کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے یا تو تانگے کا نام اپنے بزرگوں سے سن رکھا ہوگا یا پھر کتابوں میں اس کے بارے میں پڑھا ہوگا مگر اس پر سواری کا اتفاق ان کو کبھی نہ ہوا ہو گا۔۔۔۔یا پھر یہ کہنا درست ہے کہ نوجوان نسل تانگوں کو صرف کہانیوں اور تصویروں تک جانتے ہیں ۔۔۔پر ہم سے اگلی نسل کا کیا؟ شاید وہ اس نام کو کبھی سن بھی نہ پائیں یا تصویروں میں بھی نہ دیکھ پائیں۔۔۔

تانگہ کئی صدیوں تک انسانوں کے مختصر فاصلوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک اہم سواری سمجھا جاتا تھا لیکن اکیسویں صدی کے آتے ہی دنیا نے ایک کروٹ بدلی اور تانگوں کی جگہ چنگ چی رکشوں نے لے لی۔۔۔۔اورتانگوں کے ناپید ہوتے ہی انسانوں کی گھوڑوں کے ساتھ دوری مزید بڑھ گئی ۔۔۔۔لیکن کون جانتا تھا کہ ایک اور دہائی گزرنے کے بعد چنگ چی کا ایک اور بھائی جس کا نام لوڈررکشہ ہوگا وہ پیدا ہو جائے گا اور انسانوں اور جانوروں میں دوری کو مزید بڑھا دے گا۔۔

تانگوں کی بات ہو اور اس کی ٹک ٹک کی بات نہ ہو یہ کیسے ممکن ہے ؟

جیسے ریل گاڑی کی چھک چھقک سے اس کے آنے کا پتہ چلتا ہے اسی طرح تا نگوِں کی ٹک ٹک ایک رومانوی احساس تخلیق دیتی تھی۔۔۔تانگے نہ صرف گاؤں بلکہ شہروں کے لیے بھی ایک بنیادی سواری سمجھی جاتی تھی ۔۔۔اوران کے لیے باقاعدہ اڈے ہوتے تھے جہاں ان کی ضروریات کومد نظر رکھتے ہوئے ان کے پانی اور چھاؤں کا انتظام کیا جاتا تھا۔۔۔۔منٹو کا ایک مشہور افسانہ نیا قانون جو کہ ایک کردار منگو کے گرد گھومتا ہے اس میں منگو ایک تانگہ چلانے والا ہوتا ہے ۔۔۔۔ اسی طرح تانگےکا ذکر پنجابی فلموں میں بھی کیا جاتا تھا جہاں فلم میں کئی سینز تانگے پر مبنی ہوتے تھے ویسے ایک تو تانگوں کا کلچر مشینوں نے ختم کردیا جبکہ دوسری طرف گھوڑوں پر ہونے والی جنگیں کی جگہ اب ٹیکنالوجی نے لے لی۔۔۔۔کہا جارہا ہے کہ اگر اب جنگ ہو گی تو وہ ٹیکنالوجی کے ذریعے لڑی جائے گی لیکن اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس جنگ میں ہونے والی تباہی اور نقصانات بھی زیادہ ہونگے۔۔

خیر تانگہ کے موضوع پر واپس آتے ہیں اور دیکھیتے ہیں کہ تانگے کا استعمال کہاں کہاں ہوتا تھا ؟

 تانگے بچوں اور بچیوں کو سکولوں اور کالجوں سے لانے ،لے جانے کے لیے بھی استعمال ہوتے تھے جیسے اب وین یا بس اس کام کے لیے استعمال ہوتی ہے۔۔۔۔بالکل ویسے ہی چھٹی کے وقت تانگوں کی بڑی قطاریں سکولوں اور کالجوں کے باہر جمع ہو جاتی تھی۔۔۔۔مزے کی بات یہ ہے کہ جیسے بسوں اور وین میں ہارن ہوتے ہیں ویسے ہی تانگوں کو گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز سے پہنچانا جاتا تھا۔۔۔۔بے شک ہم نے تانگوں کا دور نہیں دیکھا مگر میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ تانگوں کا دور بیت بہترین ہوگا نہ شور ،نہ آلودگی اور جانوروں سے قربت الگ۔۔۔کاش ہم اس دور سے محروم نہ ہوئے ہوتے اور آج بھی تانگہ کلچر ہوتا ۔۔۔تو ہمیں یا ہم جیسے منوجوانوں کو تانگے کا سفر محض پرانی فلموں میں نہ دیکھنا پڑتا اور نہ کتابوں میں پڑھنا پڑتا۔۔۔

بہرحال ایک آخری سوال جیسے تانگوں کی جگہ چنگ چی نے لے لی ہے ویسے چنگ چی کی جگہ کون سی سواری لے گی ؟

 


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM