ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Nishat-1 حادثے سے بال بال بچ گیا.    Newly posted SSPs in Punjab police visit PSCA, PPIC3.    "  لڑکیاں صرف ماں کی کوکھ یا پھر قبر میں محفوظ ہیں" طالبہ نے خودکشی کر لی.    "میں ناگن، تو سپیرا " پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل.    "منی ہائسٹ "(Money Heist )کاآخری حصہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ریلیز کیا جائے گا.    NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.    NA-133 ضمنی انتخاب : جمشید اقبال چیمہ کی اپیلوں پر الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ جاری.   

14 مقامات پر مویشی منڈیوں کیلئے سکیورٹی کے موثر انتظامات مکمل

ویب ڈیسک
25 Jun, 2022

25 جون ، 2022

ویب ڈیسک
25 Jun, 2022

25 جون ، 2022

14 مقامات پر مویشی منڈیوں کیلئے سکیورٹی کے موثر انتظامات مکمل

post-title

 

لاہور:  (اے پی این این )   عیدالاضحٰی کی آمد پر صوبائی دارالحکومت کے مختلف مقامات پر مویشی منڈیاں فعال ہونے کے پیش نظر لاہور پولیس نے سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔

سی سی پی او لاہور ڈی آئی جی بلال صدیق کمیانہ نے کہا ہے کہ لاہور پولیس نے مویشی بیوپاروں اور خریداروں کو بھرپور سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے مربوط اور موثر انتظامات کئے ہیں۔سربراہ لاہور پولیس نے بتایا کہ لاہور پولیس کےایک ہزار افسران اورجوان مویشی منڈیوں پر سکیورٹی ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیں گے۔

تفصیلات کے مطابق  04ایس پیز، 06 ڈی ایس پیز،10 ایس ایچ اوز اور 34 اَپر سب آرڈینیٹس تعینات ہوں گے جبکہ اینٹی رائٹ فورس کے 160جوان بھی اس دوران لا اینڈ آرڈر کا قیام یقینی بنائیں گے۔سی سی پی او لاہور نے کہا کہ منظور شدہ مقامات کے علاوہ کسی بھی جگہ پر لگنے والی غیر قانونی مویشی منڈیوں اور سیل پوائنٹس کےخلاف سخت کارروائی ہوگی۔

بلال صدیق کمیانہ نے متعلقہ پولیس افسران کو ہدایت کی ہے کہ بیوپاریوں،  اور خریداروں کو نوسربازوں، جیب تراشوں نیز جرائم پیشہ افراد سے محفوظ رکھنے کیلئے موثر اقدامات عمل میں لائے جائیں۔مویشی منڈیوں میں سادہ لباس میں تعینات پولیس اہلکار بھی مشکوک افراد اور سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔ڈولفن سکواڈ،پولیس ریسپانس یونٹ،تھانوں کی گاڑیاں مویشی منڈیوں اور اطراف میں موثر پٹرولنگ یقینی بنائیں۔

سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ نے مزید کہا کہ مویشی منڈیوں کے داخلی وخارجی راستوں پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے جائیں جبکہ ان منڈیوں کے اطراف مخصوص مقامات پر عارضی ناکے بھی لگائے جائیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ ڈولفن سکواڈ اور پولیس ریسپانس یونٹ ٹیمیں مویشی منڈیوں کے آغاز سے  عید الضحیٰ کے اختتام تک شفٹوں میں پٹرولنگ فرائض سرانجام دیں گی۔بلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ شہری کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مدد اور راہنمائی کےلئے ہیلپ لائن15 پر پولیس سے فوری رابطہ کریں۔

ترجمان لاہور پولیس کے مطابق اس بارضلعی حکومت کی طرف سے لاہور شہر سے ملحقہ 14 مختلف کھلے مقامات پر مویشی منڈیاں لگائی گئی ہیں۔
یہ مویشی منڈیاں شاہ پور کانجراں،پائن ایونیو روڈ نواب ٹاؤن،ایل ڈی اے ایونیو رائیونڈ روڈ، حویلی مرکز سندر روڈرائیونڈ،این ایف سی سوسائٹی، مانگا منڈی ملتان روڈ،حضرت ابوبکر روڈسگیاں، حضرت عثمان غنی روڈسگیاں، ترکی روڈ ڈمپنگ پوائنٹ لکھو ڈئیر،سپورٹس کمپلیکس اڈا رکھ چھبیل مناواں،برکی روڈپیراگون سوسائٹی،ایل ڈی اے سٹی کاہنہ کاچھا، نزد کاہنہ کاچھا انٹرچینج اور نزد فروٹ منڈی کاچھا نشتر کالونی میں لگائی گئی ہیں۔

دوسری جانب مویشی منڈیوں کےلئے ٹریفک ایڈوائزری پلان بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ سی ٹی او لاہور منتظر مہدی کی ہدایت پر شہریوں کی سہولت اور آسانی کےلئے  شہر کی 12 مویشی منڈیاں میں موثر ٹریفک پلان کےلیے نفری تعینات، ڈویژنل افسران کی نگرانی 04 ڈی ایس پیز، 16 انسپکٹرز اور 254 وارڈنز تعینات، رانگ پارکنگ اور تجاوزات کے خاتمے کےلئے 07 فوک لفٹرز تعینات کردئیے گئے۔

پبلک ایڈریس سسٹم کے ذریعے شہریوں کو پارکنگ و دیگر آگاہی بھی دی جائے گی،  سی ٹی او لاہور۔مین شاہراہ پر کوئی جانور یا گاڑی کھڑی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ شہریوں کو مویشی منڈیوں تک رسائی میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ منڈیوں میں رش بڑھنے سے ٹریفک کی نفری میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔سی ٹی او لاہور کی وارڈنز کو نوسر بازوں، مشکوک افراد اور لاوارث اشیاء پر بھی کڑی نظر رکھنے کی ہدایت۔

 


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM