ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Nishat-1 حادثے سے بال بال بچ گیا.    Newly posted SSPs in Punjab police visit PSCA, PPIC3.    "  لڑکیاں صرف ماں کی کوکھ یا پھر قبر میں محفوظ ہیں" طالبہ نے خودکشی کر لی.    "میں ناگن، تو سپیرا " پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل.    "منی ہائسٹ "(Money Heist )کاآخری حصہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ریلیز کیا جائے گا.    NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.    NA-133 ضمنی انتخاب : جمشید اقبال چیمہ کی اپیلوں پر الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ جاری.   

27ویں اور  28ویں کامن کاگورکھ دھندہ اور بزدار حکومت

 تحریر : انور حسین سمراء انوسٹیگیٹو جرنلسٹ
04 Dec, 2021

04 دسمبر ، 2021

 تحریر : انور حسین سمراء انوسٹیگیٹو جرنلسٹ
04 Dec, 2021

04 دسمبر ، 2021

27ویں اور  28ویں کامن کاگورکھ دھندہ اور بزدار حکومت

post-title

نہ جانے کیوں جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والی حکومتیں حکمرانی کے لئے بیورکریٹس پر انحصا ر کرتی ہیں جبکہ یہ بابو تو سٹیٹس کو کی فورس ہوتے ہیں جو اپنے مفادات اور آسائشوں کی خاطر عوام کے خزانے کو بے دردی سے استعمال کرتے ہیں اور ٹھاٹھ بھی لگاتے ہیں۔ یہ سیاسی جوگادری شاید ویژن سے عاری ہونے کی وجہ سے ان مہاکلاکاروں پر انحصار کرتے ہیں جبکہ یہ افسران تو صرف انتظامی مشینری کا مینڈیٹ رکھتے ہیں ۔
شہباز شریف کی گڈ گورننس نے 10سال ان بابوؤں کےذریعے پنجاب میں خوب انجوائے کیا کیونکہ یہ بابو اپنے آقاؤں اور کے بچوں کے لئے بھی مال بناتے رہے اور خود بھی اس گنگا سے ہاتھ دھوتے رہے لیکن دیگر افسران کے لئے شکرے کا کام کرتے رہے۔ تبدیلی سرکار بھی تبدیلی کا نعرہ لگاتے ہوئے اسی ڈگر پر چل نکلی او ر آج صوبے میں گورننس کا جنازہ نکالنے میں کامیاب ہے۔ شہباز شریف نے ڈی ایم جی کے 28ویں کامن کے کندھو ں پر رکھ کر گورننس کی بلا امتیاز بندوق چلائی تھی جس کی قیادت احد خان چیمہ کرتے تھے۔ تو سردارعثمان بزدار 27ویں کامن کی توانائیوں کو استعمال کرتے ہوئے صوبے میں گورننس کا بھرکس نکال دینے میں کامیاب ہورہے ہیں جس کی قیادت محمد عامر جان کررہے ہیں۔
 پنجاب کی موجودہ جمہوری حکومت نے تین چارسیاسی ترجمان تبدیل کرنے کے بعد اپنے دفاع کے لئے ایک قبل از وقت ریٹائرڈ بابو حسان خاور کا انتخاب کیا تاکہ وہ بہتر طریقے سے پنجاب کی نااہل، ترجیحات کے فقدان اور ویژن سے عاری حکمرانوں کو پروٹیکٹ کرسکے کیونکہ موصوف الفاظ کے گورکھ دہندے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ موصوف کا تعلق ڈی ایم جی کے27 ویںکامن سے ہے اور اپنی ذہانت اور علم کی وجہ سے نوکری چھوڑ کر حکومت کے منصوبہ جات میں بطور کنسلٹنٹ خدمات دیتے رہے ہیں۔ 
دلچسپ بات یہ ہے موصوف شہباز شریف کے 10سالہ گڈ گورننس میں پنجاب کے تمام بڑے ترقیاتی منصوبہ جات میں بطور کنسلٹنٹ خدمات دے کر کروڑو ں کماچکے ہیں اور آج تبدیلی سرکار کے دفاع میں ان منصوبہ جات پر نکتہ چینی اور کرپشن کے الزامات لگاتے نظر آتے ہیں۔
 اگر نیب ان منصوبہ جات میں ہونے والی مبینہ کرپشن کی تحقیقات میرٹ پر کرے تو موصوف بھی پیشیاں بھگتنے نیب کا چکر لگاتے نظرآئیں گے۔ جب سے تبدیلی سرکاری آئی تو موصوف کی کنسلٹنٹ والی دوکان بند ہوچکی تھی اور ان کے بیچ میٹ پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلی پنجاب محمد عامر جان نے خصوصی شفقت کرتے ہوئے سیاسی ہرزہ سرائی کرنے والے لوگوں کو آئوٹ کرکے موصوف کو بھاری مراعات پر منصب لے کر دیا جس پر وہ ابھی تک کامیابی سے گولہ باری کرکے اپوزیشن کے چھکے چھڑواتے نظر آتے ہیں۔
 27ویں کامن کے محمد عامر جان جو اس وقت سردار عثمان بزدا ر کے پرنسپل سیکرٹری ہیں بھی صوبے میں گورننس کی تباہی اور عوامی مسائل پر اپنی قابلیت کے جوہر دیکھا رہے ہیں۔
 موصوف ماضی میں بھی شریف خاندان کے معتمد خاص افسران میں شامل تھے اور انرجی سیکٹر میں مبینہ طور پر کافی مال وپانی بناچکے ہیں۔ان پر جنوبی پنجاب میں سرکاری سکولوں کی سولرائزیشن کے منصوبے میں ایک ایسی فرم کو نوازنے کا الزام ہے جس میں موصوف ایک اور سینئر بابو کے ہمراہ حصہ دار تھے۔ شہرت کے حوالے سے بھی کافی کمزور ہیں اور محکمہ محنت و افرادی قوت میں کلاکاری دکھا چکے ہیں اور آج کل نہ تجربہ کار اور ویژن سے عاری باس کو الٹے سیدھے مشورے دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔
محکمہ انرجی سے اس قدر محبت ہے کہ جہاں بھی تعینات ہوں اس کا اضافی چارج پاس رکھتے ہیں ۔ اقتدار کے نشے کی وجہ سے اپنے دیگرگولیگزاور سینئر افسران کو فون کالز پر رسپانس بھی نہیں کرتے۔ تیسرے بابو ڈاکٹر احمد جاوید قاضی ہیں جو شہباز شریف کی سیکنڈ کمانڈ بیورکریسی کے سرغنہ تھے وہ بھی بزدا ر کا اعتماد حاصل کرکے اعلی عہدے پر بطور سیکرٹری صحت پنجاب تعینات ہیں۔ جب صوبائی سروس کے نسیم صادق جو اپنی خوشامد اور مالش کی وجہ سے شہباز شریف کے قریب تھے کو بطور ڈی سی او لاہور تعینات کیا گیا تو ڈی ایم جی افسران نے اچھا محسوس نہ کیا اور ان کوناکام کرنے کے لئے مختلف حیلے بہانے اور دیگر حربے استعمال کیے جن سے عاجز آکر شہباز شریف نے نسیم صادق کو ہٹانے کا فیصلہ کیا اور بابوؤں نے اس کا متبادل احمد جاوید قاضی دیا۔
 یاران حکومت بتاتے ہیں کہ قاضی اس قدر کنفیوژ اور مردم بزار تھا کہ تعیناتی کے چند ماہ بعد شہباز نے سفارشی بابوؤں کو کہا کہ یہ کیا عذاب آپ نے لاہور پر مسلط کروادیا ہے کوئی کام نہیں ہوتا۔ قاضی صاحب کے کریڈٹ پریہ خوبی ہے کہ نہ خود سوتے ہیں نہ ماتحت افسران کو سونے دیتے ہیں، دفتر میں لیٹ بیٹھتے ہیں، ڈیٹا اکٹھا کرتے رہتے ہیں اور فیصلہ کرنے کی قوت سے عاری ہیں جس کی وجہ سے گورننس ریورس گیئر پر رہتی ہے۔محفوظ طریقے سے گفٹ لینے کا شوق بھی رکھتے ہیں۔چوتھے مہاکلاکار کمشنر لاہور کپٹین (ر) محمد عثمان یونس ہیں جو بظاہر بہت ورکر اور ڈوئر جانے جاتے ہیں لیکن واردات کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ یہ بھی شہباز شریف کی آنکھ کا تارا تھے۔ یہ جب ڈی سی او لاہور تعینات تھے تو ماڈل ٹاون کا واقعہ ہوا تھا جس میں 11معصوم افراد کو گولیوں سے چھلنی کیا گیا تھا جن کے لواحقین آج تک انصاف کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
کبھی زمانہ تھا کہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری اور عمران خان بھائی بھائی تھے لیکن ان کی تعیناتی پر عوامی تحریک کی طرف سے احتجاج کے باجود عمران خان نے انہیں تبدیل نہ کیا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بزدار حکومت کے تینوں لاڈلے بیورکریٹس 10سال سے زائد عرصے سے پنجاب خاص طور پر لاہور پر مسلط ہیںجو عمران خان کی صوبوں کے درمیان افسران کو تبدیل کرنے کی روٹیشن پالیسی 2020کی روح کے خلاف ہے ۔ عمران خان ان طاقتور اور مہا فنکار افسران کو پنجاب سے باہر نکالنے میں بظاہر ناکام دیکھائی دیتے ہیں اور ہمت ہارچکے ہیں۔
28ویں کامن کے نمبر دار فواد حسن فواد تھے جبکہ  27  ویںکے سرپنچ طاہر خورشید عرف ٹی کے ہیں ۔ فواد حسن فواد مبینہ کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور وسائل سے زائد اثاثہ جات بنانے پرجیل دیکھ چکے ہیں جبکہ ٹی کے اپنی باری کا انتظار کررہے ہیں کیونکہ نیب کی طرف
 سے کرپشن الزامات پر تین چار پروانے موصول کرچکے ہیں۔
28ویں کامن اور 27وین کامن میں ایک واضح فرق ہے ۔ 28ویں کامن کی سرپرستی احد خان چیمہ جسے مہا کہانی کار کہتے تھے جبکہ دیگر میں میاںمحمد شکیل ، نورالامین مینگل ، ڈاکٹر نعیم روف، حیدر بلال، آصف بلال لودھی، عمران سکند ربلوچ اور علی جان شامل تھے ۔
 یہ تمام شہباز کی کور بیورکریٹس کی ٹیم تھی۔ احد خان چیمہ کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے پر جیل دیکھ چکے ہیں اور مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔ میاں محمد شکیل پر گریٹر اقبال پارک میں 3ارب کی مبینہ کرپشن پر انٹی کرپشن پنجاب میں مقدمہ درج ہوچکا ہے جبکہ نورالامین مینگل فیصل آباد میں تعیناتی کے دوران کروڑ کی کرپشن کرنے اور علی جان محکمہ صحت پنجاب میں پروکیورمنٹ میں اربوں کی کرپشن پر نیب میں تحقیقات کا سامنا کررہے ہیں اور ڈاکٹر نعیم روف بطور ڈی سی او بہاولپور چولستان کی زمین بیوی کے نام الاٹ کرنے اور مرغی خانے بنانے پر انٹی کرپشن میں مقدمے کا سامنا کررہے ہیں ۔ 27ویں کامن کے افسران چونکہ ابھی اقتدار کے ایوانوں میں پینگیں جھول رہے ہیں اور نیب و انٹی کرپشن کی انکھیں بھی بند ہیں جس کی وجہ سے بلا خوف وارداتیں ڈالنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے جبکہ ان کی گندی شہرت زبان زدِ عام ہے۔

   نوٹ:  اےپی این این نیوز نیٹ ورک کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
 


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM