ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Nishat-1 حادثے سے بال بال بچ گیا.    Newly posted SSPs in Punjab police visit PSCA, PPIC3.    "  لڑکیاں صرف ماں کی کوکھ یا پھر قبر میں محفوظ ہیں" طالبہ نے خودکشی کر لی.    "میں ناگن، تو سپیرا " پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل.    "منی ہائسٹ "(Money Heist )کاآخری حصہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ریلیز کیا جائے گا.    NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.    NA-133 ضمنی انتخاب : جمشید اقبال چیمہ کی اپیلوں پر الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ جاری.   

گالیاں برسانے والوں نے گولیاں برسانا شروع کر دی

ویب ڈیسک
24 May, 2022

24 مئی ، 2022

ویب ڈیسک
24 May, 2022

24 مئی ، 2022

گالیاں برسانے والوں نے گولیاں برسانا شروع کر دی

post-title

وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ بے گناہ پولیس اہلکار کمال احمد کے سینے میں لگی گولی ثبوت ہے کہ عمران خان دہشت گرد ہے۔ کمال احمد کا قاتل عمران خان، شیخ رشید اور اس کے حواری ہیں۔ خونی مارچ کے اعلانات کرنے والوں سے حساب لیں گے۔

پولیس اہلکار کی شہادت پر اپنے مذمتی بیان میں رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پولیس پر فائرنگ سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ سیاسی سرگرمی نہیں ہے۔ فائرنگ ثبوت ہے کہ یہ پرامن مارچ چاہتے ہی نہیں تھے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ گالیاں برسانے والوں نے گولیاں برسانا شروع کر دی ہیں۔ قانون کو ہاتھ میں لیا گیا ہے، قانون جواب لے گا۔ عمران خان مارچ کی آڑ میں ملک میں خانہ جنگی کی سازش کر رہے ہیں۔ کمال احمد کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں خانہ جنگی، افراتفری، فساد اور انتشار کو قانون کے راستے سے روکیں گے۔ شہید پولیس اہلکار کے اہل خانہ کو شہدا پیکج دیں گے۔ شہید اہلکار کے اہل خانہ کی کفالت اور بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری حکومت لے گی۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے جان ومال کی حفاظت کا فرض پورا کریں گے۔ شہید کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ تعالی شہید کے درجات بلند فرمائے، اہل خانہ کو صبر جمیل دے۔

 

خیال رہے کہ لاہور کے علاقے ماڈل ٹائون میں پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاری کیلئے چھاپے کے دوران فائرنگ کرکے پولیس کانسٹیبل کو شہید کرنے والے ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دونوں ملزم باپ بیٹا بتائے جا رہے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزموں میں عکرمہ اور اس کا والد ساجد شامل ہیں۔ پولیس نے ملزموں کے قبضہ سے اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔ دونوں باپ بیٹا فائرنگ کا الزام اپنے اپنے سر لے رہے ہیں۔ فرانزک اور تفتیش کے بعد اصل قاتل کا پتا چل جائیگا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ساجد نامی شہری کے گھر چھاپے کے دوران چھت سے فائرنگ ہوئی تھی۔ فائرنگ کی زد میں آکر کانسٹیبل کمال احمد شہید ہو گیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس نے ڈیڑھ سو سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کو فراہم کردہ فہرست ساڑھے سات سو افراد پر مشتمل ہے۔ زیر حراست افراد کو 16 ایم پی او کے تحت جیل بھیجا جائے گا۔

گذشتہ رات ماڈل ٹاؤن میں پی ٹی آئی کیخلاف پولیس کے کریک ڈاؤن کے دوران فائرنگ سے کانسٹیبل شہید ہو گیا تھا۔ کانسٹیبل کمال احمد کو سینے پر گولی لگی تھی۔ زخمی کانسٹیبل کو طبی امداد کے لئے لاہور جنرل ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گیا۔ کانسٹیبل کمال احمد ماڈل ٹاؤن میں تعینات تھا۔

ڈی آئی جی آپریشنز سہیل چودھری نے کہا ہے کہ ماڈل ٹاون سی بلاک 112 میں پی ٹی آئی کارکن ساجد کے گھر کریک ڈاؤن کیا گیا۔ کریک ڈاؤن کے دروان چھت سے فائر کیا گیا۔
 


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM