ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Nishat-1 حادثے سے بال بال بچ گیا.    Newly posted SSPs in Punjab police visit PSCA, PPIC3.    "  لڑکیاں صرف ماں کی کوکھ یا پھر قبر میں محفوظ ہیں" طالبہ نے خودکشی کر لی.    "میں ناگن، تو سپیرا " پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل.    "منی ہائسٹ "(Money Heist )کاآخری حصہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ریلیز کیا جائے گا.    NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.   

ویکھو شہر لاہور

نعیم گھمن
09 Dec, 2022

09 دسمبر ، 2022

نعیم گھمن
09 Dec, 2022

09 دسمبر ، 2022

ویکھو شہر لاہور

post-title

 باؤلی باغ گور ارجن دیو جی  رنگ محل  اندورن لاہور

 لاہور شہر باغوں 'پھولوں ' تتیلوں ' پرندوں اور رندوں کی آماجگاہ ہوتا تھا ۔اندرون لاہور کے گرد پھولوں اور انواع اقسام کے پھل دار درختوں کی طویل قطاریں ہوتی تھیں ۔نولکھا بازار کی جگہ   دارشکوہ  کی بسائی ہوئی پھولوں کی بستی ہوتی تھی ۔اس بات پہ آپ حیران ہوں گے کہ برانڈتھ روڈ جس میں اب  ہر سو لوہے کی بہتات ہے اور اس کی  حدت دم نکالتی دیکھائی دئے رہی ہے ۔اس کے اردگرد کیلوں کے پودوں کی طویل قطاریں ہوتی تھیں ۔

اس لیے اسے کیلوں والی سڑک کہا جاتا تھا ۔دریائے روای شاہی قلعے کے دروبام کو چوم کر گزرتا ہوتا تھا ۔افسوس مگر یہ کہانی پرانی ہو چکی ہے ۔آپ کبھی اندرون لاہور آوارہ گردی کرتے ہوئے تھک جائیں تو میرا مشورہ ہے کہ دم  لینے  کے لیے باؤلی باغ سے بہتر اور کوئی جگہ نہیں ہو سکتی ۔شہر لاہور کے انہی بچ رہنے والے باغوں کی چھوٹی سی نشانی سنہری مسجد کے پہلو میں موجود باؤلی باغ ہے ۔ جس میں چند نڈھال بوڑھے درخت اپنی عظمت رفتہ کا نوحہ سنا رہے ہیں ۔پھولوں کے پودے نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اس چھوٹے سے باغیچے میں گھاس تو ہے مگر اس کی دیکھ بھال نہیں ہوتی مگر  گئے گزرے دور میں یہ باغ  بھی  گوشہ عافیت ہے ۔اندرون لاہور اور اس کے  کے   اطراف میں بھی کبھی باغات ہوتے تھے پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ علاقہ کاروباری مرکز بنتا چلا گیا ۔رنگ محل چوک اندرون  شہر کا مرکز ہے۔رنگ محل چوک کو اگر لاہور کا دل کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا  ۔اس چوک سے جو آواز بلند ہوتی تھی وہ برصغیر میں گونج اٹھتی تھی ۔کتنی ہی تحریکوں کا مرکز اس چوک کے تھڑے بنے ۔وقت گزرتا گیا اور اس علاقے میں ایک ایک انچ زمین کی اہمیت بڑھتی  چلی گئی ۔باغات کی جگہ عمارتوں نے لے لی۔

خوش قسمتی سے باولی باغ گورو ارجن دیو جی  رنگ محل چوک کے ایک کونے میں آج بھی موجود ہے ۔رنگ محل چوک سے دو راستے شمال کی جانب بڑھتے ہیں ۔مسجد ایاز کی سمت والاراستہ پانی والے تالاب کی جانب جاتا ہے جبکہ دوسرا راستہ سنہری مسجد اور دلی گیٹ کی جانب جاتا ہے ۔اسی دوسرے راستے پہ چند قدم چلنے کے بعد جنت نما اک ٹکڑا موجود ہے ۔اس باغ  کے اندر جانے کا چھوٹا سا راستہ ہے ۔اس میں پرانے درخت ہیں ۔یہ چھوٹا سا باغ مجھے نہیں خبر کیسے تاجروں اور حکمرانوں کی نظروں سے بچ رہا۔

 اس باغ میں ایک باؤلی تھی۔ باؤلی دراصل زیرِ زمین پانی کا ایک ذخیرہ ہوتا تھا  جو کہ کافی گہرا اور کنواں نما ہوتا تھا ۔ پانی تک رسائی کے لیے
سیڑھیاں بنی ہوتی تھیں ۔ سیڑھیوں کے ذریعے پانی کی تہہ تک جا کر پانی لایا جاتا تھا ۔  سکھ مذہب میں اس باؤلی کو  مقدس سمجھا جاتاتھا ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ  سکھ مذہب کے پانچویں گرو ’’گرو ارجن دیو جی‘‘ نے جہانگیر بادشاہ کے زمانے میں یہ باؤلی بنوائی تھی۔ اس باؤلی کے بننے کے متعلق اک  دلچسپ کہانی یہ بھی  ہے کہ " عہد جہانگیری میں لاہور کا ایک پٹھان چھجو بھگت جوکہ ایک دکان دار تھا جو سونے کا کام کرتا تھا کے پاس آیا اور اور اپنا بٹوہ امانت کے طور پر اسکو رکھوا دیا ۔

صبح کا وقت تھا کاتب ابھی نہیں آیا تھا چھجو نے بغیر لکھے بٹوہ صندوق میں ڈالا اور بھول گیا ۔جب کچھ دنوں بعد پٹھان سفر سے واپس آیا اور اپنا بٹوہ طلب کیا تو چھجو نے انکار کر دیا ۔پٹھان نے قاضی کے پاس مقدمہ کر دیا مگر گواہ نہ ہونے کے باعث پٹھان مقدمہ ہار گیا ۔ایک دن دکان کی صفائی کرتے چھجو کو وہ بٹوہ مل گیا وہ پٹھان کے پاس گیا اور معافی مانگی اور بٹوہ واپس کرنا چاہا ۔مگر پٹھان نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ میں تو مقدمہ ہار چکا ہوں اب یہ میرا نہیں ۔

چنانچہ دونوں گُرو ارجن دیو کے پاس گئے اور معاملہ پیش کیا ۔جب گُرونے دیکھا کہ دونوں فریق بٹوہ واپس لینے پر رضا مند نہیں ہو رہے تو دونوں کی اجازت سے گُرو نے رنگ محل کے نزدیک عوام کے لئے ایک باؤلی اور کنواں بنوا دیا ۔ "  اس باؤلی کے ساتھ ایک بڑا لنگر خانہ بھی موجود تھا۔ ساتویں گرو ’’گرو ہرگوبند سنگھ‘‘ کے زمانے میں ان کے اور قاضی کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا، جس کے باعث یہ باؤلی اور اس کی تمام عمارت حکومت نے اپنی قبضہ میں لے لی  اور لنگر خانہ کی جگہ پر ایک مسجد تعمیر کر دی گئی۔وقت گزرتا گیا جب مہاراجہ رنجیت سنگھ جب بیمار ہوا، تو اس کے نجومی نے اس کو مشورہ دیا کہ اگر وہ  باؤلی گوور ارنج دیو جی  کو کھلوائے اور اس کے پانی سے غسل کرے، تو وہ ٹھیک ہوجائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ مہاراجہ نے ایسا ہی کیا اور وہ ٹھیک ہوگیا۔

بہرحال یہ باؤلی باغ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔اس باغ میں ملک پاکستان کے معروف سیاست دان بھی آتے رہے ہیں ۔اس باغ میں اک صوفی بزرگ کا  سالانہ میلہ بھی لگتا ہے جس میں پاکستان بھر سے رند جمع ہوتے ہیں ۔اس باغ کا رقبہ یقنا زیادہ ہوگا مگر سکڑتے سکڑتے کم رہ گیا ہے۔باغ کی دیوار پر اسی بزرگ کی محبت میں کچھ جھنڈے بھی لہرا رہے ہیں اور چراغاں کے لیے مخصوص تھڑا بھی بنا ہوا ہے ۔

رنگ محل چوک میں یہ گوشہ امن و محبت ہے جس میں انسان کچھ وقت گزار کے سکون پاتا ہے ۔میں جب بھی رنگ محل چوک جاوں تو اس باغ میں لمحات گزارتا ہوں اور ماضی کے اپنے  خوب رو اور جوان شہر لاہور کی بابت سوچتا ہوں کہ آج ہم اس شہر کی محبت میں آوارہ پھرتے ہیں اگر وہ جوبن دیکھ لیتے تو کیا خبر ہم پہ کیا گزرتی ۔


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM