ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Nishat-1 حادثے سے بال بال بچ گیا.    Newly posted SSPs in Punjab police visit PSCA, PPIC3.    "  لڑکیاں صرف ماں کی کوکھ یا پھر قبر میں محفوظ ہیں" طالبہ نے خودکشی کر لی.    "میں ناگن، تو سپیرا " پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل.    "منی ہائسٹ "(Money Heist )کاآخری حصہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ریلیز کیا جائے گا.    NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.    NA-133 ضمنی انتخاب : جمشید اقبال چیمہ کی اپیلوں پر الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ جاری.   

ہمارا سب سے بڑا اثاثہ سمندر پار پاکستانی ہیں:وزیراعظم عمران خان کا نتھیا گلی میں قوم سے خطاب

ویب ڈیسک
07 Sep, 2021

07 ستمبر ، 2021

ویب ڈیسک
07 Sep, 2021

07 ستمبر ، 2021

ہمارا سب سے بڑا اثاثہ سمندر پار پاکستانی ہیں:وزیراعظم عمران خان کا نتھیا گلی میں قوم سے خطاب

post-title

نتھیا گلی : وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا اثاثہ سمندر پار پاکستانی ہیں اور بدقسمتی سے ہم ابھی تک اس اثاثے کا صحیح طور پر فائدہ نہیں اٹھا سکے۔
نتھیا گلی میں بین الاقوامی ہوٹل کے سنگ بنیاد کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا حکومتی نظام اس انداز میں پروان چڑھا ہے کہ حکومت پہلے اپنا اور پھر عوام کا فائدہ دیکھتی ہے حالانکہ حکومت کا بنیادی کام عوام کی بہتری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں کہ جو نظام خرابی کی جانب جاتا ہے وہ اپنے آپ کو بچانا شروع کردیتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت ملک کی سب سے بڑی ضرورت دولت میں اضافہ کرنا ہے جس سے نوکریاں ملیں گی، ٹیکس کلیکشن بڑھے گی، ملک پر چڑھے ہوئے قرضے واپس کرسکیں گے لیکن ہماری حکومت جیسی بن چکی ہے وہ اس طرح نہیں دیکھتی۔
ان کا کہنا تھا کہ سمندر پار پاکستانیوں کی ضرورت اس بات کی ہے کہ جب وہ پاکستان آئیں تو ہم ان کے لیے آسانیاں پیدا کریں اور ایسے مواقع تشکیل دیں کہ وہ اپنا پیسے سے سرمایہ کاری کرسکیں۔
وزیراعظم کے مطابق 90 لاکھ پاکستانی بیرونِ ملک مقیم ہیں جن کی سالانہ آمدن تقریباً ملک کے 22 کروڑ افراد کی سالانہ آمدن کے برابر ہے، سب سے زیادہ پیسے والے اور ہنرمند پاکستانی بیرونِ ملک ہیں
ان کا کہنا تھا کہ ایک نظام انہیں یہاں چلنے نہیں دے رہا تو وہ باہر جا کر کامیاب ہوگئے، یہاں اس لیے کامیاب نہیں ہوسکے کہ سسٹم روکتا تھا، باہر انہیں کوئی سفارش نہیں کرنی پڑی لیکن نظام نے انہیں پیسہ بنانے اور کامیاب ہونے کی اجازت دی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا بہترین ٹیلنٹ باہر جانے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ہم ملک میں انہیں کام کرنے کے مواقع فراہم نہیں کررہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ جب وہ سرمایہ کاری کریں گے تو ہماری نوجوان آبادی کو نوکریاں ملیں گی لیکن اس وقت پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی تاریخ میں برآمدات بڑھانے کی کوشش ہی نہیں کی ملک اس وقت امیر ہوتا ہے جب اس کے پاس دنیا کو بیچنے کے لیے چیزیں ہوں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم کتنی چیزیں برآمد کرسکتے تھے لیکن کبھی کسی نے کوشش ہی نہیں کی اس لیے اب ہم اپنی برآمدات بڑھا رہے ہیں کہ اس سے ڈالر میں لیا گیا قرض واپس کریں گے، روپیہ مضبوط ہوگا۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیکن جب تک ہماری برآمدات نہیں بڑھ رہی اس وقت تک بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کے لیے لایا جائے، جب وہ ڈالر لے کر آئیں گے ہمارے زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے جس سے روپیہ مستحکم ہوتا جائے گا، مہنگائی اور غربت کم ہوتی جائے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ابھی تک سمندر پار پاکستانی زیادہ سے زیادہ ایک پلاٹ خرید لیا کرتے تھے اور بدقسمتی سے نظام اتنا خراب تھا کہ اس پر بھی قبضہ ہوجاتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری جنگ سسٹم کو ٹھیک کرنا ہے، ہم قانون کی بالادستی کی جنگ لڑرہے، کوئی بھی ایسا ملک خوشحال نہیں ہے جہاں قانون کی بالادستی نہیں ہے آج افریقہ میں وسائل کے اعتبار سے کئی امیر ممالک ہیں لیکن وہاں قانون کی بالادستی نہیں ہے۔


 


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM