ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Nishat-1 حادثے سے بال بال بچ گیا.    Newly posted SSPs in Punjab police visit PSCA, PPIC3.    "  لڑکیاں صرف ماں کی کوکھ یا پھر قبر میں محفوظ ہیں" طالبہ نے خودکشی کر لی.    "میں ناگن، تو سپیرا " پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل.    "منی ہائسٹ "(Money Heist )کاآخری حصہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ریلیز کیا جائے گا.    NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.    NA-133 ضمنی انتخاب : جمشید اقبال چیمہ کی اپیلوں پر الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ جاری.   

لاہور آوارگی

نعیم گھمن
25 Apr, 2022

25 اپریل ، 2022

نعیم گھمن
25 Apr, 2022

25 اپریل ، 2022

لاہور آوارگی

post-title

 حسو تیلی سے ملاقات (حسو تیلی المعروف پیر حسن شاہ ولی سہروردی )لاہور شہر میں عجب قسم کی رعنائی ہے ۔اس کے گلی کوچے تاریخ کے زندہ اوراق ہیں ۔

میں لاہور شہر کی گلیوں میں شاہ حسین کے ملنگوں کی طرح کی آوارہ گردی کرتا ہوں ۔لاہور کے کلاسیکل کرداروں سے مجھے محبت ہے،
مجھےاس شہر کے صوفیوں ،سادھوؤں ،ملنگوں ،درویشوں اور فقیروں سے بے تحا شہ انس ہے اور لاہور کے حاکموں سے واجبی سی بھی دلچسپی نہیں ہے ۔شہر لاہور کے مشہور صوفیاء میں اک اہم نام بابا شاہ جمال کا ہے ۔سہروردی سلسلہ کے اس بزرگ کی بادشاہت آج بھی لاہور کے رندوں پر قائم ہے ۔ماضی میں شاہ جمال کی درگاہ  رندوں کا ہجوم ہوتا تھا۔مجھے وہاں جانے کا اکثر اتفاق ہوتا رہتا ہے ۔آج کل تو شاہ جمال کی درگاہ کا رنگ بھی قدرے پھیکا پڑ گیا ہے کیونکہ اس کی شاموں کو ڈھول کی تھاپ کے ساتھ حسیں بنانے والے ڈھولچی گزر گئے ہیں ۔

پپو سائیں اور گونگا سائیں کے جانے کے بعد لطف باقی نہیں رہا ۔جب گونگا سائیں کے ڈھول کی آواز مستقل خاموش ہوئی تو میں نے اس پر اک مضمون لکھا ۔اس مضمون کو لکھتے ہوئے میری نگاہ حسو تیلی کے کردار پر پڑی جو شاہ جمال کا لاڈلا مرید تھا ۔میرا دل تھا کہ مجھے حسو تیلی کی قبر ملے ۔میں ان کی قبر کو شاہ جمال کے قرب وجوار میں تلاش کرتا رہا ۔اس کے بعد میں نے مختلف کتب سے حسو تیلی کا نا م پیر حسن شاہ ولی پڑھ کر اس کے مزار کا اتا پتہ معلوم کر لیا۔

رمضان کی وجہ سے آوارگی کے لیے نکلنا ممکن نہیں تھا مگر طبعیت بے چین تھی کہ حسو تیلی سے ملاقات کی جائے ۔حسو تیلی بھی ہمیں اشارے کنایے سے مسلسل بلائے جا رہا تھا ۔مجھے یوں لگتا تھا کہ لاہور کا  ایبٹ روڈ دور دراز دلی میں ہے کیونکہ رمضان کی وجہ سے  میرا جانا نہیں ہو رہا تھا ۔

گزشتہ شام فلیٹیز ہوٹل میں دوستوں نے افطار و ڈنر کا پروگرام بنایا۔میں اس کے لیے گھر سے نکلا تو ایچیسن کالج کے قریب سے گزرتے ہوئے بے اختیار شملہ پہاڑی کی طرف مڑ گیا ۔اب مجھے فلیٹیز کی بجائے حسو تیلی کو ملنے کا سندیسہ پہنچ چکا تھا ۔میرا خیال تھا کہ  ایبٹ روڈ پر پی ٹی  وی کی بلڈنگ کے ساتھ ہی حسو کا مزار ہے ۔جب میں وہاں پہنچا تو وہ مزار حسو تیلی کا نہیں تھا بلکہ اک سید بزرگ کا تھا  ۔ میں نے اک مجاور سے پوچھا جو افطاری کا لنگر تیار کر رہا تھا کہ یہاں حسو تیلی کا  بھی مزار ہے  ۔اس نے بے خبری کا اظہاکرتے ہوئے سر ہلا دیا  ۔

میں نے بات بدل کر کہا بابا جی اس روڈ پر کسی اور بزرگ کا مزار ہے ۔اس نے کہا ہاں آپ تھیٹر کے ساتھ نیچے جائیں پرانے پاسپورٹ آفس والی گلی میں ایک  مزار ہے ۔اب میں تھوڑی ہی دیر بعد اک کشادہ مزار کے احاطے میں تھا ۔ہوا ٹھنڈی چل رہی تھی ۔مزار کے احاطے میں لگے پپل کے درخت محو رقص تھے اور ان کے پتوں کے آپس میں ٹکرانے سے عجب قسم کی موسیقیت کا لطف محسوس ہو رہا تھا ۔

مزار کے احاطے میں کئی اور بھی درخت تھے ۔مزار کا اک پختہ تھڑا تھا ۔خوب صورت سے اونچے مقام پر اک چھوٹا سا مزار تھا ۔اس احاطے کے باہر پیر حسن شاہ ولی سہروردی کا بورڈ لگا تھا ۔دل کی دھڑکن بڑھی مزار کے اندر داخل ہوا ۔مزار کے احاطے میں کہیں بھی حسو تیلی کا نام درج نہیں تھا ۔ہر طرف حسن شاہ ولی لکھا ہوا تھا ۔دربار بالکل خالی تھا ۔دل کھول کہ حسو تیلی سے  باتیں کیں ۔اس دربار کے ایک کونے میں الگ تھلگ اک مسجد بھی تھی۔

ضیائی عہد میں اک ظلم یہ بھی ہوا کہ پاکستان کی  اکثر  درگاہوں کو مسجدوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا ۔جس کی وجہ سے یہ درگاہیں اک طبقے کے لیے مخصوص ہوتی چلی گئیں اور ان کی عمومیت کا جادو ختم ہوتا چلا گیا  ۔حسو تیلی کے  مزار پر مسجد بالکل الگ تھی ۔دل خوش ہوا کہ کچھ نہ کچھ تہذیبی نقوش باقی ہیں ۔کچھ بچے نیچے صحن میں کرکٹ کھیل رہے تھے ۔

حسو تیلی مجھ آوارہ گرد کو دیکھ کر بہت خوش ہوا ۔حسو تیلی نے کہا میاں گھمن !اس شہر سے پیار کرو.یہ شہر ہم فقیروں کی دھڑکنوں میں رہتا ہے  ۔میرے پاس آتے جاتے رہا کرو ۔میں چپ چاپ باتیں سنتا رہا ۔پھر اچانک مجھے خیال آیا کہ روزہ افطار کرنا ہے حسو تیلی کو الوداعی سلام کرکے بھاگ نکلا ۔

جاتے ہوئے حسو تیلی نے سرگوشی کے عالم میں کہا کہ یار میری درگاہ پہ کہیں میرا حقیقی نام بھی لکھوا دو ۔لوگوں نے میری حقیقی شناخت حسن شاہ ولی کے نیچے چھپا رکھی  ہے ۔اب اس دور میں لوگوں کو خبر ہی نہیں ہے کہ ہم شاہ جمال کے کتنے تگڑے ملنگ تھے  اور شاہ حسین کے پکے یار  تھے  ۔اب میں حسو تیلی سے ملاقات کی سرشاری کو اپنے من میں سموئے درگاہ سے نکل گیا ۔میرا دل ہے کہ آپ کو کچھ باتیں حسو تیلی کے متعلق بتاوں ۔

میری حسو تیلی سے دلچسپی کی اک  وجہ اس کا شاہ حسین سے ساتھ تعلق بھی بنا ۔حسو تیلی شہر لاہور کی تاریخ کا اہم کردار ہے ۔حسو تیلی دریائے چناب کے کنارے اک گاؤں "ماکھیوال " میں پیدا ہوا ۔اس کے والد کا اک کولہو تھا ۔حسو تیلی کی ملاقات اس وقت کے مشہور جوگی گور گورکھ ناتھ سے ہوئی ۔اس کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے بعد لاہور پہنچا ۔شاہ عالمی میں  جھنڈا چوک کی ایک دوکان میں اپنا کاروبار شروع کیا
،وہ دوکان آج بھی حسو تیلی کے نام سے منسوب ہے اور عقیدت مند وہاں محبت سے حاضری دیتے ہیں ۔

حسو تیلی نے ان دنوں بابا  شاہ جمال کا شہرہ سنا تو ان کی بارگاہ میں حاضر ہو ئے۔ ان کے ہاتھ پر بیعت کی ۔وہ  ابتدا میں غلہ فروشی کا کام کرتے تھے ۔انہوں نےبابا شاہ جمال سے کاروبار میں برکت کی دعا کی درخواست کی۔ان کی دعا کے اثر سے کاروبار خوب چمکا ۔اس نے  اپنے تراوز بھی سونے کے بنوا لیے ۔

بابا شاہ جمال کے کہنے پر غلے کا وزن کرنا ہی بند کر دیا ۔لوگ غلہ بیچنے آتے اور خود ہی تول کر لیتے ۔بابا شاہ جمال نے جب آپ کی کاروبار میں دلچسپی بڑھتی دیکھی تو فقیری کا رستہ دکھا دیا ۔حسو تیلی مرادِ مرشد سمجھ گیا اور اپنے تراوز کو دریائے راوی میں بہا دیا ۔جب مدت بعد دریائے راوی سے کچھ لوگ گزرے تو ان کو ترازو مل گیا ۔انہوں نے اسے پہچان لیا اور یوں  ترواز  دوبارہ حسو کے پاس پہنچ گیا مگر ان کا دل اچاٹ ہو گیا ۔درویشی کو اپنا طریق بنایا ۔اگر حسو تیلی کاروبار ہی کرتا رہتا تو آج تاریخ کے اوراق میں گم ہو گیا ہوتا ۔اس نے دلوں کا کاروبار شروع کیا تو دائمی حیات اس کا مقدر بن گئی ۔

اس کے بعد انہوں نے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے  تیل بچنا شروع کر دیا ۔لاہور کے تیلی انہیں اپنا پیشوا اور رہبر مانتے ہیں۔لطف کی بات یہ ہے کہ حسو تیلی کا ذکر وارث شاہ نے اپنی کتاب "ہیر وراث شاہ "  میںبھی کیا ہے۔

عشق پر ہے عاشقاں ساریاں دا
 بھکھ پیر ہے مستیاں  ہاتھیاں  دا
 حسو تیلی ہے جو پیر تیلیاں دا
 سلیمان ہے جن بھوتا سیاں دا
 

حسو تیلی عبادت گزار انسان تھا ۔شاہ حسین جب بھی اپنے ملنگوں کے ساتھ داتا گنج بخش حاضری کے لیے جاتے  تو حسو تیلی کی بیٹھک کے سامنے خوب رقص کرتے اور ڈھول بجاتے ۔حسو تیلی ان پر خوب غصہ کرتا ۔شاہ حسین اور اس کے ملنگ  مسکراتے گزر جاتے ۔حسو تیلی کے منع کرنے کے باوجود مزے سے رقص کرتے رہتے ۔ایک دن حسو تیلی سویا اور خواب میں اسے شاہ حسین کے مقام و مرتبہ کا پتہ چلا ۔اس دن سے شاہ حسین کا دوست بن گیا ۔اب اس کی توجہ شاہ حسین کی طرف مبذول ہوئی ۔وہ شاہ حسین اور اس کے ملنگوں کا قدر دان بنا ۔ان کے رقص اور ڈھول کو پسند کرنے لگا ۔بہر طور حسو تیلی شہر لاہور کا مشہور کردار ہے ۔اس کا مزار اور بیٹھک دونوں آج بھی آباد ہیں ۔لوگ آتے ہیں اور حسو تیلی سے باتیں کرتے ہیں ۔آپ بھی کسی دن حسو تیلی سے ملاقات کر آئیں لطف آئے گا۔


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM