ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Nishat-1 حادثے سے بال بال بچ گیا.    Newly posted SSPs in Punjab police visit PSCA, PPIC3.    "  لڑکیاں صرف ماں کی کوکھ یا پھر قبر میں محفوظ ہیں" طالبہ نے خودکشی کر لی.    "میں ناگن، تو سپیرا " پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل.    "منی ہائسٹ "(Money Heist )کاآخری حصہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ریلیز کیا جائے گا.    NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.    NA-133 ضمنی انتخاب : جمشید اقبال چیمہ کی اپیلوں پر الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ جاری.   

home-add

پاکستانی سیاست اور امریکی سازش

ویب ڈیسک
08 Jun, 2022

08 جون ، 2022

ویب ڈیسک
08 Jun, 2022

08 جون ، 2022

پاکستانی سیاست اور امریکی سازش

post-title

آج کل کی نسل سے  اگر بین الاقوامی سازش یا امریکی مداخلت کا ذکر کیا جائے تو سب کے دماغ میں صرف عمران خان کا دھمکی آمیز مراسلہ آئے گا ۔ مگر پاکستان میں بین الاقوامی مداخلت کا شور آج کا نہیں ۔۔

       عمران خان کی حکومت تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد ختم تو ہو گئی مگر جاتے جاتے وہ اپنے کارکنان میں بیرونی سازش یا مداخلت کو تقویت دینے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔۔پاکستان اور امریکہ کے مابین تعلقات کی  بات کریں تو یہ ہمیشہ اونچ نیچ کا شکار رہے ہیں ۔پاکستان کی زیادہ تر آبادی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ امریکہ پاکستان کو استعمال کرتا ہے اور استعمال کے بعد منہ موڈ لیتا ہے اور پاکستان کے اندرونی معاملا ت میں مداخلت کرتا ہے ۔

 پاکستان میں پہلی امریکی سازش

پاکستان میں پہلی امریکی سازش    پاکستان کے پہلے وزیراعظم  لیاقت علی خان کے قتل سے ہوئی۔

سولہ اکتوبر1951 کا دن تھا۔ وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کو کمپنی باغ راولپنڈی میں پاکستان مسلم لیگ کے جلسۂ عام سے خطاب کرنا تھا۔ اس شام نوابزادہ لیاقت علی خان پونے چار بجے جلسہ گاہ میں پہنچے۔ ان کےاستقبال کے لیے مسلم لیگ کا کوئی مرکزی یا صوبائی رہنما موجود نہیں تھا۔ پنڈال میں چالیس پچاس ہزار کا مجمع موجود تھا۔ مسلم لیگ کے ضلعی رہنما شیخ مسعود صادق کے خطبہ استقبالیہ کے بعد وزیراعظم مائیک پر آئے۔وزیر اعظم نے ابھی ’برادران ملت‘ کے الفاظ ہی ادا کیے تھے کہ پستول کے دو فائر سنائی دیے۔

اگلی صف میں بیٹھے افغان باشندے سید اکبر نے پستول نکال کر وزیر اعظم پر یکے بعد دیگرے دو گولیاں چلائیں۔ پہلی گولی وزیر اعظم کے سینے اور دوسری پیٹ میں لگی۔وزیرِ اعظم گر پڑے۔ نو سیکنڈ بعد نائن ایم ایم پستول کا ایک فائر سنائی دیا پھر یکے بعد دیگرے تین فائر سنائی دیے ۔ اگلےپندرہ سیکنڈ تک ریوالور اور رائفل کے ملے جلے فائر سنائی دیتے رہے۔ اس وقت تک قاتل کے ارد گرد موجود لوگوں نے اسے قابو کر لیا تھا۔ اسکا پستول چھین لیا گیا تھا مگر ایس پی نجف خان کے حکم پر انسپکٹر محمد شاہ نے قاتل پر سرکاری پستول سے یکے بعد دیگرے پانچ گولیاں چلا کر اسے ختم کر دیا۔ وزیر اعظم شدید زخمی حالت میں جلسہ گاہ سے باہر لائے گئے۔ وزیر برائے امور کشمیر نواب مشتاق گورمانی کی گاڑی جلسہ گاہ میں داخل ہو رہی تھی۔ وزیر اعظم کو اسی گاڑی میں ملٹری ہسپتال پہنچایا گیا۔ جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر انتقال کر گئے۔۔

قائدِ ملت کے قتل کے دو ہفتے بعد یکم نومبر 1951 کو جسٹس محمد منیر کی قیادت میں ایک تحقیقاتی کمیشن مقرر کیا گیا جس نے آنے والے مہینوں میں 38 سماعتوں کے دوران 89 گواہوں سے پوچھ تاچھ کی۔ اس تمام سوچ بچار اور بحث و تمحیص کے بعد آخر کار کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا: ’یہ قتل سید اکبر کا انفرادی عمل نہیں تھا اور حکومت کی تبدیلی سے متعلق کسی سازش کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔‘

اس کیس کے  بارے میں آنے والے برسوں میں مختلف سمتوں میں انگلیاں اٹھتی رہیں بالآخر

 امریکہ نے ’اعترافِ جرم‘ کر ہی لیا اوریہ دعویٰ کیا گیا کہ امریکی سی آئی اے نے ایسی دستاویزات افشا کی ہیں جن میں اعتراف کیا گیا ہے کہ لیاقت علی خان کو امریکہ نے قتل کروایا تھا۔ اس دوران پاکستان کے مین سٹریم کے اردو اخباروں میں اس قسم کی سرخیاں چھپیں:

 قائد ملت لیاقت علی خان کو امریکا نے قتل کروایا، امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ (روزنامہ ایکسپریس)

 لیاقت علی خان کو امریکہ نے قتل کروایا: امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جاری کردہ دستاویزات میں برملا اعتراف (روزنامہ دنیا)

لیاقت علی خان کے قتل کا معمہ حل ہو گیا، سابق امریکی صدر ٹرومین نے قتل کرایا تھا، سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی دستاویزات سامنے آ گئیں (روزنامہ پاکستان)

جنرل ایوب خان کا  روس کا دورہ ۔۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جنرل ایوب نے پاکستان کی اندرونی و بیرونی پالیسیوں کو امریکی ایما پر مرتب کرنے کی کوشش کی تھی۔سنہ 1965 کی پاک انڈیا جنگ میں امریکہ نے پاکستان کی حمایت اُس طرح نہ کی جیسی کہ توقع کی جا رہی تھی۔ سنہ 1965 کی جنگ کے بعد ایوب خان کمزور پڑنے لگے اور اِن کے خلاف عوامی احتجاج ہونے لگا۔ یہ ذاتی سطح پر امریکہ کی سرد مہری اور فاصلہ اختیار کر لینے کی وجہ سے شاکی رہے۔

الطاف گوہر اپنی کتاب" ایوب خان، فوجی راج کے پہلے 10 سال" میں لکھتے ہیں کہ 1962 میں چین اور انڈیا کے مابین جنگ چھڑ گئی اور سارے علاقے کی صورت حال یکسر بدل گئی۔امریکہ انڈیا کی مدد کے لیے آمادہ ہو گیا اور انڈیا کو وسیع پیمانے پر اسلحے کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

ایوب خان نے امریکہ کے اس رویے سے بدظن ہو کر چین اور روس کا دورہ کیا۔ امریکہ کو یہ دورہ کتنا برا لگا، اس بارے میں الطاف گوہر لکھتے ہیں کہ امریکہ نے روسی قیادت کے ساتھ ایوب کی ملاقاتوں پر اپنا ردعمل ظاہر کرنے کے لیے ان کی وطن واپسی کا انتظار بھی نہ کیا اور انھیں ماسکو ہی میں یہ اطلاع دے دی گئی کہ ان کا واشنگٹن کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹوکے خلاف امریکی مداخلت

27مارچ کے جلسے میں عمران خان نے اپنی تقریر میں ذوالفقار علی بھٹو کی یہ کہہ کرتعریف کی کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو آزاد خارجہ پالیسی دینے کی کوشش کی تھی۔

سابق وزیرِ اعظم جس وقت خط لہرا رہے تھے، اُس سے لگ بھگ 45 برس قبل ذوالفقار علی بھٹو نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شعلہ بیان تقریر میں کہا تھا "حکومت کے خلاف امریکہ مداخلت کر رہا ہے اور اپوزیشن کے ذریعے مجھے ہٹانا چاہتا ہے"۔

 پھر بھٹو نے راولپنڈی میں خط کو امریکی وزیرِ خارجہ ہنری کسنجر کی دھمکی قرار دے کر عوام کے سامنے لہرایا تھا۔ اُس وقت ذوالفقار بھٹو کا یہ بیانیہ تھا کہ میرے خلاف عالمی سازش ترتیب دی گئی ہے، جس کو امریکہ نے مالی مدد بہم فراہم کی اور میرے سیاسی مخالفین کو سازش میں مہرہ بنایا گیا ہے۔

جنرل ضیا کی موت۔۔ حادثہ یا امریکی سازش۔؟

جنرل ضیا جب 1988 میں بہاولپور کے قریب طیارہ حادثے کا شکار ہوئے تو طیارے میں اُس وقت کے امریکی سفیر بھی اُن کے ہم سفر تھے۔ ضیا کی موت کو جہاں حادثہ قرار دیا جاتا ہے، وہاں اس کو امریکہ کی سازش سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ اگرچہ ضیا الحق کی موت کا معمہ تاحال مفروضوں کی گرد میں لپٹا ہوا ہے، مگر کچھ لوگوں کے نزدیک یہ حادثہ بھی ایک سازش کے تحت ہوا۔ضیا کے بیٹے اعجاز الحق برملا طور پر طیارہ حادثے کو امریکی مداخلت اور ایک سازش کہتے ہیں۔

ضیا کی موت کے بعد پاکستان میں جمہوری سیاسی عمل شروع ہو گیا تھا، اگرچہ پوری ایک دہائی یہ عمل کمزور ہی رہا اور پھر آمریت کے سائے میں ڈوب گیا۔ سنہ 1988 میں قائم ہونے والی بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف جب تحریکِ عدم اعتماد آتی ہے تو وہ اس کو امریکی مداخلت یا سازش تو قرار نہیں دیتیں، البتہ بیرونی عوامل کا اظہار ضرور کرتی ہیں۔

ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کی ہلاکت۔۔

دو مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں امریکی فوج نے ہیلی کاپٹروں کی مدد سے کمانڈو ایکشن کیا جس کے نتیجے میں اُسامہ بن لادن ہلاک ہو گئے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین واقعہ تھا۔ ایبٹ آباد میں امریکیوں کا داخل ہونا اور وہاں سے اسامہ کا خاتمہ ہمارے ہاں بحث کا موضوع چلا آیا ہے۔

اُس وقت پاکستان حکومت نے اسامہ کی ہلاکت کو "عظیم کامیابی" قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ امریکہ نے مداخلت اپنی پالیسی کے تحت کی ہے۔ اُس وقت کے وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا ایبٹ آباد کارروائی کے لیے انٹیلی جنس کا تبادلہ کیا گیا۔ پاکستان اپنی سرزمین کسی ملک کے لیے دہشت گردی کے طورپر استعمال نہیں کرنے دے گا۔

جنرل ریٹائرڈ محمود درانی نے ایک مرتبہ اپنے انٹرویو میں بتایا تھا کہ پاکستان کو ایبٹ آباد آپریشن کی بابت پہلے سے علم نہیں تھا اور نہ ہی یہ فوج کو یہ معلوم تھا کہ یہاں اسامہ بن لادن رہتا ہے۔اُس وقت امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان برینن نے کہا تھاآپریشن کے خاتمے تک پاکستانی حکام کو آپریشن سے متعلق نہیں بتایا گیا تھا۔

ریمنڈ ڈیوس واقعہ۔۔ امریکی مداخلت کا ثبوت

ریمنڈ ڈیوس نے 27 جنوری 2011 کو لاہور میں دو افراد کو گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے نے پاکستان اور امریکہ کے مابین سفارتی معاملات میں خاصا بگاڑ پیدا کر دیا تھا اور ملک کے اندر بھی اُتھل پتھل مچا دی تھی۔ اُس وقت امریکہ کا ریمنڈ ڈیوس کے حوالے سے مؤقف تھا کہ چونکہ یہ سفارت کار ہے تو اس کو سفارتی استثنیٰ دیا جائے۔

اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ اس واقعے نے پیپلز پارٹی کے اندر بھی مسائل کو جنم دے ڈالا تھا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ صدر زرداری نے ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ دلوانے کے لیے مجھ پر دباؤ ڈالا تھا مگر میرے لیے یہ ممکن نہیں تھا۔

بعد ازاں ریمنڈ ڈیوس نے اپنی آپ بیتی "دی کنٹریکٹر" میں پاکستانی نظام ریاست میں امریکی مداخلت کے انکشاف کیے۔ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب سے عیاں ہوتا ہے کہ پاکستانی سیاست قیادت ہی نہیں، جنرل پاشا نے بھی امریکی مداخلت کے لیے اہم کردار ادا کیا۔

سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ

26نومبر 2011 کو پاک افغان بارڈر پر سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو فوج نے حملہ کیا جس میں 24 پاکستانی فوجی مارے گئے تھے۔ پاکستان نے اس کا شدید ردِعمل دیتے ہوئے امریکی سفیر کو طلب کیا، نیٹو سپلائی بند کر دی اور شمسی ایئر بیس بھی خالی کروانے کا فیصلہ کیا۔ اس واقعے سے پاک امریکہ تعلقات میں شدید بگاڑ پیدا ہو گیا۔ ملک بھر میں امریکہ کے خلاف مظاہرے کیے گئے، مذہبی جماعتوں نے امریکی قونصلیٹ کے سامنے احتجاج کیا۔

نیٹو فوج کی جانب سے حملے کا عذر پیش کیا گیا جس کو پاکستانی سول و ملٹری قیادت نے یہ کہہ کر مسترد کردیا گیا کہ یہ حملے پاکستان کی خودمختاری پر تھے۔ نیٹو سپلائی بند ہونے سے افغانستان میں موجود نیٹو فوج شدید مشکلات کی شکار ہو کر رہ گئی۔ پاکستان سے اس قدر شدید ردِعمل دیا گیا کہ تین جولائی 2012 کو ہیلری کلنٹن نے اُس وقت کی پاکستانی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر کو فون کیا اور معذرت کی ۔۔

دیکھا جائے تو پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک ہر حکومت میں امریکہ نےاپنے مفادات کے تحت پاکستان میں مداخلت کی ، یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا کچھ کہا نہیں جا سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM