ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Nishat-1 حادثے سے بال بال بچ گیا.    Newly posted SSPs in Punjab police visit PSCA, PPIC3.    "  لڑکیاں صرف ماں کی کوکھ یا پھر قبر میں محفوظ ہیں" طالبہ نے خودکشی کر لی.    "میں ناگن، تو سپیرا " پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل.    "منی ہائسٹ "(Money Heist )کاآخری حصہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ریلیز کیا جائے گا.    NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.    NA-133 ضمنی انتخاب : جمشید اقبال چیمہ کی اپیلوں پر الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ جاری.   

جائیں تو جائیں کہاں۔۔۔؟؟؟

AHS
24 Dec, 2021

24 دسمبر ، 2021

AHS
24 Dec, 2021

24 دسمبر ، 2021

جائیں تو جائیں کہاں۔۔۔؟؟؟

لاہور (اے ایچ ایس ) گریڈ 20کا ڈپٹی انسپکٹر جنرل رینک کا افسر گزشتہ 4سال 2ماہ سے اون پے اینڈ سکیل پالیسی کے تحت گریڈ 21کی پوسٹ پر انسپکٹر جنرل جیلخانہ جات پنجاب تعینات ہے جو پنجاب رولز اف بزنس کے شیڈول برائے ٹینور کی خلاف ورزی ہے۔رولز کے مطابق جیل خانہ جات محکمہ داخلہ کا ذیلی ادارہ ہے اور اس کے سربراہ کی تعیناتی کا عرصہ تین سال تک ہوسکتا ہے۔محکمہ داخلہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق اس دوران مبینہ طور پر صوبہ بھر کی جیلوں میں اہلکاورں کے خلاف کرپشن، قیدیوں کو ناقص کھانا دینے اور اختیارات کے ناجائز کی شکایات بھی بڑھ چکی ہیں جبکہ پچھلے ایک سال میں جیلوں میں طبی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے 195قیدی و حوالاتی بھی فوت ہوچکے ہیں۔ سب سے زیادہ41 قیدی و حوالاتی ڈسٹرکٹ جیل لاہور دم توڑ گئے ہیں۔ 
روزنامہ طاقت کی تحقیقات و دستاویزات کے مطابق صوبہ بھر کی 42جیلوں کے انتطامی ، امن وامان، مالیاتی امور، قیدیوں کی فلاح و بہبود اور محفوظ رہائش کی انجام دہی کے لئے ڈی آئی جی گریڈ 20کے افسرشاہد سلیم بیگ کو اکتوبر 2017 کو بطور انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات تعینات کیا گیا۔ ان کی تعیناتی او پی ایس پالیسی کے تحت ہوئی جو کمزور انتظامی پالیسی سمجھی جاتی ہے اور اس تعیناتی میں تین سینئر افسران کو نظر انداز کیا گیا۔ محکمہ داخلہ کے ریکارڈ اور بجٹ دستاویزات کے مطابق پنجاب پریزن کے انسپکٹر جنرل کی صوبہ میں ایک گریڈ 21کی ایک سیٹ ہے جبکہ ڈی آئی جی گریڈ 20کی 8پوسٹیں ہیں۔ محکمہ داخلہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ محکمہ جیل میں گریڈ 21کا ایک افسر موجود ہے جبکہ گریڈ 20میں سات افسران ہیں جن میں موجودہ آئی جی سینیارٹی میں تیسرے نمبر پر ہیں ۔ موجودہ آئی جی کی تعیناتی اون پے اینڈ سکیل کی پالیسی کے تحت گریڈ 21میں کی گئی ہے جو ایک اچھی حکمت عملی نہ ہے ۔ پنجاب حکومت کے رولز اف بزنس کے شیڈول 6کے تحت صوبہ کے چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی تعیناتی کا عرصہ 4سال جبکہ تمام صوبائی سیکرٹریز، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، انسپکٹر جنرل پولیس اور اٹیچ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہان کی تعیناتی 3سال تک ایک پوسٹ پر رہ سکتی ہے۔ جیل خانہ جات محکمہ داخلہ کا ایک ذیلی ادارہ ہے اور رولز کے مطابق آئی جی جیل کی تعیناتی کا عرصہ تین سال رکھا گیا ہے۔بجٹ دستاویزات کےمطابق صوبہ بھر کی جیلوں میںتعینات اہلکاورں کی تعداد 21198ہے جن میں سے افسران کی تعداد 1110ہے جو آئی جی جیل کے ماتحت خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ پنجاب حکومت جیل افسران کو سالانہ تنخواہ، الاﺅنسز، پٹرول اور جاری اخراجات پورے کرنے کے لئے 128ارب کا بجٹ فراہم کرتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب کی تبدیلی سرکار نے صوبے میں گورننس کمزور ہونے ، جرائم ریٹ میں اضافہ ہونے اور انتطامی امور میں بہتری نہ آنے پر اپنے دور حکومت میں چار چیف سیکرٹری اور چھ آئی جی پولیس تبدیل کیے ہیں لیکن رولز کی خلاف ورزی اور انتظامی امور میں کمزوری کے باوجود میں آئی جی جیل ابھی تک اپنی سیٹ پر براجمان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے صوبہ بھر کی جیلوں میں بند قیدیوں و حوالاتیوں کی بہتری کے لئے کافی اقدامات کیے ہیں لیکن مطلوبہ نتائج ابھی حاصل نہیں ہوسکے۔ پنجاب میںپی ٹی آئی حکومت بننے سے حکومتی پارٹی تو تبدیل ہوگئی لیکن جیل کے آئی جی تبدیل نہ ہوسکے کیونکہ وہ نئے آنے والے سیاسی قیادت کے ساتھ بھی اچھے مراسم قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ جیل تک کے افسران کے تبادلوں کا اختیار بھی آئی جی کے پاس ہے جس میں مبینہ طور پر تبادلوں کا ریٹ بھی مختص ہے جس کی شکایات بھی عام ہیں۔ 
چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل نے رابط کرنے پر کوئی جواب نہ دیا۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے بھی جواب نہ دیا۔


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM