ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Nishat-1 حادثے سے بال بال بچ گیا.    Newly posted SSPs in Punjab police visit PSCA, PPIC3.    "  لڑکیاں صرف ماں کی کوکھ یا پھر قبر میں محفوظ ہیں" طالبہ نے خودکشی کر لی.    "میں ناگن، تو سپیرا " پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل.    "منی ہائسٹ "(Money Heist )کاآخری حصہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ریلیز کیا جائے گا.    NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.    NA-133 ضمنی انتخاب : جمشید اقبال چیمہ کی اپیلوں پر الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ جاری.   

وزیراعظم اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش، لاپتہ افراد کا معاملہ حل کرنے کی یقین دہانی

ویب ڈیسک
09 Sep, 2022

09 ستمبر ، 2022

ویب ڈیسک
09 Sep, 2022

09 ستمبر ، 2022

وزیراعظم اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش، لاپتہ افراد کا معاملہ حل کرنے کی یقین دہانی

post-title

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ  میں پیش ہو کر لاپتہ افراد کا معاملہ حل کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔

وزیر اعظم شہباز شریف لاپتا افراد کے کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہو گئے۔ وزیر اعظم کی لاپتا افراد کیس کو حل کرنے کی یقین دہانی ۔ کہا وہ عوام اور اللہ تعالیٰ کو جواب دہ ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان کی تکالیف کا ازالہ کرے۔ حراستی مراکز قائم ہیں جہاں سے لوگ بازیاب ہوئے ہیں لیکن کوئی ایکشن نہیں ہوا۔

لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں ہوئی، وزیراعظم شہباز شریف بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے آپ کو اس لیے تکلیف دی ہے کہ یہ ایک بہت بڑا ایشو ہے اور کئی ماہ سے اس کورٹ میں چل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کیس میں ریاست کا وہ رسپانس نہیں آ رہا جو ریاست کی ذمہ داری ہے، ایک چیف ایگزیکٹو نے اس ملک پر نو سال حکمرانی کی، انہوں نے اپنی کتاب میں فخریہ لکھا کہ اپنے لوگوں کو بیرون ملک فروخت کیا، اس سے لگتا ہے کہ شاید یہ ریاست کی پالیسی تھی لیکن آئین کی بات کریں تو ریاست کے اندر ریاست نہیں ہو سکتی۔

 ان کا کہنا تھا یہ عدالت انویسٹی گیشن ایجنسی نہیں، آئینی عدالت ہے، معاملہ وفاقی کابینہ کو بھجوایا گیا، آپ نے کابینہ کمیٹی تشکیل دی لیکن یہ معاملہ صرف کمیٹی کی تشکیل کا نہیں ہے، اس کورٹ نے مناسب سمجھا کہ آپ کو بتائیں کہ دراصل ایشو کیا ہے؟

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا کمیشن بنا اور اس کی پروسیڈنگ جو سامنے آئیں وہ بہت تکلیف دہ ہیں، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان کی تکالیف کا ازالہ کرے، حراستی مراکز قائم ہیں جہاں سے لوگ بازیاب ہوئے لیکن کوئی ایکشن نہیں ہوا، یہ تاثر ہماری قومی سلامتی کو متاثر کرتا ہے، سیاسی قیادت نے اس مسئلے کو حل کرنا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا لوگوں کو لاپتہ کرنا ٹارچر کی سب سے بڑی قسم ہے، عدالت کے پاس اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں کہ ایگزیکٹو سے پوچھیں، جب ریاست آکر بتاتی ہے کہ ہمیں نہیں پتہ لوگ کس نے لاپتہ کیے، پھر کیا کریں؟

ان کا کہنا تھا آپ سیلاب متاثرین کے لیے کام کر رہے اور اس ایشو کو سمجھتے ہوئے عدالت آئے، جبری گمشدگیاں آئین سے انحراف ہے، یا تو آپ کو کہنا پڑے گا کہ آئین اصل شکل میں بحال نہیں، اس ملک کی نیشنل سیکیورٹی آپ کے ہاتھ میں ہے، ملک میں گورننس کے بھی بہت ایشوز ہیں، اس ملک کے مسائل تب حل ہوں گے جب آئین مکمل بحال ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سویلین ایگزیکٹو کنٹرول میں ہیں، اس کورٹ کو آپ پر اعتماد ہے، جب چھوٹا بچہ کورٹ آتا ہے تو عدالت کس کو جوابدہ کرے، اس وقت کے پرائم منسٹر سے بھی بچے کی ملاقات کرائی گئی، آپ اس کورٹ کو حل بتا دیں کہ مسنگ پرسنز کیس میں کسے ذمہ دار ٹھہرائیں؟

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا یہ میری ڈیوٹی تھی کہ عدالت کے کہنے پر پیش ہوتا، یو این کے سیکرٹری جنرل پاکستان میں ہیں، میری ان کے ساتھ ملاقات تھی لیکن جب مجھے عدالت کا حکم ملا تو میں نے کہا کہ کورٹ جاؤں گا۔

ان کا کہنا تھا بچے نے کہا میرے والد کو مجھ سے ملا دیں، بچے کا یہ جملہ میرے لیے بہت پریشان کُن تھا، میں اپنی ذمہ داری پوری کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کروں گا، یقین دہانی کراتا ہوں لاپتہ افراد کو اہلخانہ سے ملاؤں گا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا لاپتہ افراد کیس کو حل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا، میں عوام اور اللہ تعالیٰ کو جواب دہ ہوں، چار سال میں دو مرتبہ جیل گیا، میرے اہلخانہ نے بھی اذیت دیکھی۔

انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد سے متعلق بنائی کمیٹی 6 اجلاس کر چکی ہے، لاپتہ افراد کمیٹی کے ہر اجلاس کی عدالت میں رپورٹ پیش کروں گا، رپورٹ کوئی کہانی نہیں ہو گی بلکہ حقائق پر مبنی ہوگی۔

بعد ازاں عدالت نے وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے اقدامات کے لیے دو ماہ کی مہلت دینے کی استدعا منظور  کرتے ہوئے مدثر نارو سمیت دیگر لاپتا افراد کے کیسوں کی سماعت 14 نومبر تک ملتوی کر دی۔


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM