ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.    NA-133 ضمنی انتخاب : جمشید اقبال چیمہ کی اپیلوں پر الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ جاری.    UAE گولڈن جوبلی: گلوبل ولیج تصویری مقابلہ درہم 50,000 تک جیتنے کا موقع.    IMFکے ساتھ معاملات طے پا گئے ، معاہدہ اسی ہفتے ہو گا، شوکت ترین.    UET لاہور انڈرگریجویٹ داخلہ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ.    Major progress in Lahore Police Anti-Drug Campaign.    "میرا ڈونا بلیسڈ ڈریم "کا پہلا ٹریلر جاری.    "پاکستان ممکنہ بھارتی جارحیت کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے".    Paperless driving license system is going to be introduced in Punjab.    Foolproof Security on the eve of Urs of Data Ali Hajveri (RA) and Chehlum of Hazrat Imam Hussain (AS).   

کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ساڑھے 3 سو کارکنان رہا

ویب ڈیسک
25 Oct, 2021

25 اکتوبر ، 2021

ویب ڈیسک
25 Oct, 2021

25 اکتوبر ، 2021

کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ساڑھے 3 سو کارکنان رہا

post-title

حکومت نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کےایک طرف ساڑھے 3 سو کارکنان رہا کردیےتو دوسری طرف  لاہورمیں 16مقدمات درج
مقدمات مزہبی جماعت کے قائدين اور کارکنان کےدرج کئے گئےْ
4 مقدمات تھانہ شفيق آباد، 4 تھانہ نواں کوٹ ،2 مقدمات تھانہ شاہدرہ اور 2 مقدمات تھانہ انار کلی میں مقدمات درج کئے گئے
تھانہ ساندہ ،تھانہ ملت پارک،تھانہ اقبال ٹاون ،تھانہ راوی روڈ ميں ایک ایک مقدمات درج کئے گئے۔
 مقدمات قتل، اقدامِ قتل اور دہشت گردی  سميت ديگر دفعات کے تہت درج کيے گيے
بظاہر جی ٹی روڈ کے راستے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے والے پرتشدد مظاہرین کے سامنے ایک اور مرتبہ مکمل ہتھیار ڈالتے ہوئے وفاقی حکومت نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ساڑھے 3 سو سے زائد کارکنان کو رہا کردیا۔ حکومت نے اعلان کیا کہ دیگر کارکنان کے خلاف کیسز بدھ (27 اکتوبر) تک واپس لے لیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ حکومت نے ٹی ایل پی رہنماؤں کو فورتھ شیڈول لسٹ پر نظرِ ثانی کرنے کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ ان کے زیر حراست سربراہ سعد رضوی کو رہا کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔
نیوز کانفرنس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ نے ایک ٹوئٹ کر کے بتایا کہ ’ہم نے ٹی ایل پی کے ساڑھے 3 سو کارکنان رہا کردیے ہیں اور ہم ٹی ایل پی کے ساتھ ہونے والے فیصلے کے مطابق مریدکے کی سڑک دونوں اطراف سے کھولے جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کا ایک اور دور وزارت داخلہ (اسلام آباد) میں پیر (آج) کی صبح ہوگا۔
تاہم ٹی ایل پی شوریٰ کے رکن نے دعویٰ کیا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے وزیر اعظم عمران خان کی واپسی تک کا وقت مانگا ہے جو اس وقت سعودی عرب کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’شاید لوگ کہیں گے ریاست جھک گئی ہے لیکن ریاست کا کام طاقت کا استعمال کرنا نہیں ہے بلکہ میرے نقطہ نظر کے مطابق مفاہمت کی راہ نکالنا ہے۔
ٹی ایل پی شوریٰ کے ایک رکن نے کہا کہ وہ حکومت کی تجویز سے اتفاق کرتے ہیں کہ وہ مریدکے میں دو دن تک قیام کریں اور انتظار کریں، کیونکہ حکومت نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ٹی ایل پی کے سربراہ اور شوریٰ کے دیگر اراکین سمیت تمام گرفتار افراد کو رہا اور فورتھ شیڈول پر نظرِ ثانی کرے گی۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ حکومت نے وعدہ کیا کہ وہ نومبر 2020 میں تحریک کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر عمل کرے گی۔
ٹی ایل پی شوریٰ رکن کے مطابق رہائی کے بعد ان کی قیادت اور کارکن مریدکے میں مارچ کرنے والوں میں شامل ہوں گے اور ممکنہ طور پر لانگ مارچ کے خاتمے کے اپنے اگلے منصوبے کا اعلان کریں گے۔
ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دیا ہے لیکن پابندی نہیں لگائی، شیخ رشید
وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ کالعدم ٹی ایل پی کے زیر حراست سربراہ 8 گھنٹوں سے زائد وقت تک جاری رہنے والے مذاکرات کا حصہ رہے اور ان کے ساتھ ون آن ون ملاقات کے دوران بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم کا رکن بننے کو تیار نہیں تھے لیکن انہوں نے ٹی ایل پی کے رہنماؤں کے اصرار پر مذاکرات میں حصہ لیا۔
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے حیران کن طور پر کہا کہ حکومت نے ’ٹی ایل پی پر پابندی نہیں لگائی‘۔
شیخ رشید نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ان (ٹی ایل پی) پر پابندی نہیں لگائی، وہ اپنے نشانات پر انتخابات بھی لڑ رہے ہیں، وہ نہ یہاں ہیں نہ وہاں، ہم نے سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کیا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ میڈیا رپورٹس میں ٹی ایل پی کو کالعدم کیوں کہا گیا تو وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے انہیں کالعدم قرار دیا ہے اس لیے یہ ان کے نام کے ساتھ لکھا ہے۔
 


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM