ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Nishat-1 حادثے سے بال بال بچ گیا.    Newly posted SSPs in Punjab police visit PSCA, PPIC3.    "  لڑکیاں صرف ماں کی کوکھ یا پھر قبر میں محفوظ ہیں" طالبہ نے خودکشی کر لی.    "میں ناگن، تو سپیرا " پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل.    "منی ہائسٹ "(Money Heist )کاآخری حصہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ریلیز کیا جائے گا.    NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.   

’کوشش کرینگے اسمبلیاں تحلیل نہ ہوں، گورنر راج آئینی طریقہ ہے استعمال ہوسکتا ہے‘

ویب ڈیسک
01 Dec, 2022

01 دسمبر ، 2022

ویب ڈیسک
01 Dec, 2022

01 دسمبر ، 2022

’کوشش کرینگے اسمبلیاں تحلیل نہ ہوں، گورنر راج آئینی طریقہ ہے استعمال ہوسکتا ہے‘

post-title

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہےکہ اسمبلیاں توڑنے کا عمل کبھی بھی سیاسی جماعتوں اورملک کیلئے سود مند ثابت نہیں ہوتا لہٰذا کوشش کریں گے کہ اسمبلیاں تحلیل نہ ہوں جب کہ گورنر راج اور عدم اعتماد آئینی طریقے ہیں اور یہ استعمال ہوسکتے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ بحرانی کیفیت پیدا کرنے کے لیے  کے پی اورپنجاب اسمبلی سے نکلنے کی بات کررہے ہیں، کرپٹ نظام سے نکل رہے ہو تو صدر کو نکالو، سینیٹ سے نکلو اور جی بی اور کشمیر سے بھی نکلو۔

انہوں نے کہا کہ سنا ہے 20 دسمبر سے وہ استعفیٰ دیں گے، اگر فیصلہ کرلیا ہے تو 20 دسمبر تک انتظارکیوں، عمران خان صرف عدم استحکام چاہتا ہے تاکہ ملک افراتفری کی طرف جائے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھاکہ مسلم لیگ اور اتحادیوں کی مشاورت چل رہی ہے، پنجاب اورکے پی اسمبلی ٹوٹنے پربلوچستان اور سندھ میں تو الیکشن نہیں ہوگا، مرکز میں تو نگران حکومت نہیں ہوگی، اسمبلی توڑنے کا عمل غیر سیاسی اور غیرجمہوری عمل ہے، اگرعمران کے پی اور پنجاب اسمبلی توڑتے ہیں تو آئین قانون کے مطابق ہوگا، پہلے قومی اسمبلی کے استعفے کی آکر تصدیق کریں، الیکشن کا بائیکاٹ، اسمبلی توڑنا کسی سیاسی جماعت یا ملک کے لیے  سود مند ثابت نہیں ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ امن چاہتے ہیں ان کو راستہ دیا جانا چاہیے، سکیورٹی معاملات وفاقی حکومت کی نظر میں ہیں، عوام کے لیے کوئی پریشانی کی بات نہیں، مکمل کنٹرول کیا جارہا ہے، بات آگے بڑھی تو آپریشن وقت پر ہوگا، دیرنہیں ہوگی، آپریشن تو روز ہورہے ہیں جو طاقتور آپریشن ہیں۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھاکہ اسمبلیاں توڑنے کا عمل کبھی بھی سیاسی جماعتوں اورملک کیلئے سود مند ثابت نہیں ہوتا لہٰذا کوشش کریں گے کہ اسمبلیاں تحلیل نہ ہوں جب کہ گورنر راج اور عدم اعتماد آئینی طریقے ہیں اور یہ استعمال ہوسکتے ہیں۔

وزیر داخلہ نے بلیلی میں دہشتگردی کے واقعے کی شدید  مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹی پی نے بلوچستان میں دہشتگردی کی ذمے داری قبول کی ہے،  ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان میں دہشتگردی پورے خطےکے امن کے لیے خطرناک ہے، ٹی ٹی پی کو افغانستان سے ہر طرح کی سہولت میسر ہے اور افغانستان کےلیے بھی یہ بات لمحہ فکریہ ہونی چاہیے، یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ آؤٹ آف کنٹرول طاقت ہے، بلوچستان، کے پی میں صوبائی انتظامیہ اور ایجنسیاں معاملےکو سنجیدہ لیں، صوبوں کو یقین دلاتاہوں کہ وفاق کی جانب سےمکمل معاونت فراہم کی جائےگی،  سیاسی اختلافات چلتے رہتے ہیں لیکن ریاست سب سے مقدم ہے۔

ان  کاکہنا تھا کہ کوشش کریں گے کہ ہم اسمبلیاں توڑنے کے عمل میں معاون نہ ہوں کیونکہ اسمبلیاں توڑنے کا عمل انتہائی غیر سیاسی اور غیر آئینی ہے،  جلسوں میں ناکام ہو کر اسمبلیوں کو توڑنے کا فیصلہ کرنا عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے، اگرعمران خان کے پی اورپنجاب کی اسمبلیاں توڑتےہیں تو الیکشن کی صورت میں ہم بھرپور شرکت کریں گے۔


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM