ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Nishat-1 حادثے سے بال بال بچ گیا.    Newly posted SSPs in Punjab police visit PSCA, PPIC3.    "  لڑکیاں صرف ماں کی کوکھ یا پھر قبر میں محفوظ ہیں" طالبہ نے خودکشی کر لی.    "میں ناگن، تو سپیرا " پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل.    "منی ہائسٹ "(Money Heist )کاآخری حصہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ریلیز کیا جائے گا.    NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.    NA-133 ضمنی انتخاب : جمشید اقبال چیمہ کی اپیلوں پر الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ جاری.   

سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے 7 جولائی کے فیصلے چیلنج کر دیئے

ویب ڈیسک
01 Aug, 2022

01 اگست ، 2022

ویب ڈیسک
01 Aug, 2022

01 اگست ، 2022

سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے 7 جولائی کے فیصلے چیلنج کر دیئے

post-title

سابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے 7 جولائی کے فیصلے چیلنج کر دیئے ہیں۔

سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال نے اسلام آباد ہائی کور ٹ میں درخواست جمع کرادی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے 7 جولائی کو مجھے لاپتا افراد کمیشن کی سربراہی سے ہٹانے کی سفارش کی، جب کہ آئینی و قانونی طور پر ایسے فیصلے کرنا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اختیار نہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اپنے اختیار کا غلط استعمال کر رہے ہیں، عدالت کمیٹی کے 7 جولائی کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے۔

7 جولائی کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس

7 جولائی 2022 کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نورعالم خان کی زیرصدارت ہوا، جس میں نیب افسران کے اثاثوں اور مراعات کا جائزہ لیا گیا۔ تاہم نیب نے اپنے افسران کے اثاثے ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ جس پر چیئرمین پی اے سی نور عالم نے کہا کہ ہم ایسٹ ڈیکلریشن سمیت کسی بھی معاملےکی تفصیل طلب کرسکتے ہیں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے 4 اہم کیسز تحقیقات کیلئے نیب کو بھجوادیئے۔ چیئرمین پی اے سی نے بتایا کہ بلین ٹری، بینک آف خیبر، مالم جبہ اور بی آرٹی منصوبہ شامل ہیں۔

متاثرہ خاتون کا بیان

اجلاس میں سابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاویداقبال کے خلاف الزام لگانے والی خاتون نے بھی بیان دیا۔ متاثرہ خاتون طیبہ گل کا کہنا تھا کہ میرے جلاف جھوٹا ریفرنس دائر کیا گیا، اور مجھے 15 جنوری 2019 کو نیب لاہور نے اسلام آباد سے رات کو گرفتارکیا۔

متاثرہ خاتون طیبہ گل پی اے سی میں بیان دیتے ہوئے رو پڑیں اور بتایا کہ ڈی جی نیب شہزاد سلیم اگلی صبح آئے تو میری حالت خراب تھی، میرے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، کمرے میں میرے اوپر کیمرے لگا کر تلاشی لی گئی، بغیر لیڈی اسٹاف مجھ سے یہ سلوک کیا گیا۔

خاتون کے مطابق سابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے میرا نمبر لے کر مجھے بار بار کالز کرنا شروع کردیں، جاوید اقبال کے پرسنل سیکریٹری سہولت کار کا کردار ادا کرتے رہے۔ خاتون نے ڈی جی نیب شہزاد سلیم سے گفتگو کی ریکارڈنگ بھی پی اے سی میں پیش کردی۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا مطالبہ

خاتون کے بیان پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ارکان نے سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کو طلب کرنے کا مطالبہ کردیا۔ چیئرمین پی اےسی نورعالم کا کہنا تھا کہ سابق چیئرمین نیب کاوارنٹ گرفتاری نکالنا چاہتا ہوں۔

واقعے میں ملوث افسران کے خلاف ایف آئی آر کی ہدایت

چیئرمین پی اے سی نے موجودہ چیئرمین نیب ظاہرشاہ کو معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کردی، جب کہ ڈی جی نیب، ڈائریکٹرز سمیت ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی بھی ہدایت جاری کی۔

چیئرمین پی اے سی کی خاتون کا یقین دہانی

چیئرمین پی اے سی نےمتاثرہ خاتون کو ایف آئی آردرج کرانے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ انکوائری کے بعد وزیراعظم اور چیف جسٹس پاکستان کوسفارشات بھجوائی جائیں گی، اور خاتون کو ہراساں کرنے والوں کو نشان عبرت بنایا جائے گا، صوبائی حکومت کو متعلقہ پولیس افسران کے نام بھجوائیں گے۔

8 جولائی کو پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کا نوٹس

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے انکوائری کمیشن برائے جبری گمشدگان کے چیئرمین اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے سابق چیئرمین جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال اور نیب کے دیگر حکام پر جنسی ہراسانی کے کے الزام کا سنجیدگی سے نوٹس لیا۔

جاری بیان میں کہا گیا کہ ایچ آر سی پی کے لیے یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ یہ الزامات ایک خاتون کی طرف سے لگائے گئے جس نے جاوید اقبال سے ان کے بطورِ چیئرمین سی او آئی ای ڈی رابطہ کیا تھا۔

ایچ آر سی پی کی جانب سے مزید کہا گیا کہ چیئرمین سی او آئی ای ڈی ایک ایسا عہدہ ہے جس میں وہ درخواست کنندہ کی گواہی کے تحفظ اور ایک لاپتہ رشتہ دار کے ضمن میں انہیں انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے ذمہ دار تھے۔

چیئرپرسن ایچ آر سی پی حنا جیلانی کا کہنا تھا کہ جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال نے نہ مبینہ طور پر دو حیثیتوں سے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا ہے۔

حنا جیلانی نے کہا ہے کہ جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال الزامات کا جواب دینے کے لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش ہونے میں بھی ناکام رہے ہیں۔

ایچ آر سی پی کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ سابق چیئرمین نیب سمیت دیگر سرکاری اہلکاروں کے خلاف الزامات کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے اور اگر یہ الزامات ثابت ہو جائیں تو انھیں عہدے سے ہٹایا جائے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایچ آر سی پی تحقیقات کے اس مطالبے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں ہونے والی کارروائی پر نظر رکھے گا۔
 


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM