ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Newly posted SSPs in Punjab police visit PSCA, PPIC3.    "  لڑکیاں صرف ماں کی کوکھ یا پھر قبر میں محفوظ ہیں" طالبہ نے خودکشی کر لی.    "میں ناگن، تو سپیرا " پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل.    "منی ہائسٹ "(Money Heist )کاآخری حصہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ریلیز کیا جائے گا.    NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.    NA-133 ضمنی انتخاب : جمشید اقبال چیمہ کی اپیلوں پر الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ جاری.    UAE گولڈن جوبلی: گلوبل ولیج تصویری مقابلہ درہم 50,000 تک جیتنے کا موقع.   

home-add

حقوق نسواں کی علمبردار نوجوان شاعرہ..... کومل بخاری

ذیشان چشتی
28 Mar, 2022

28 مارچ ، 2022

ذیشان چشتی
28 Mar, 2022

28 مارچ ، 2022

حقوق نسواں کی علمبردار نوجوان شاعرہ..... کومل بخاری

post-title

الفاظ کا ربط، بحر و مٹی کا کھیل ، اوزن، قافیہ اور ردیف کی تکرار جب کسی کی پہچان بن جائے تو زمانہ ان کے ہر جملے اور مصرع پر واہ واہ کرتا ہے. اگر شاعر محبت کے روایتی انداز بیان سے ہٹ کر معاشرہ میں انسانیت کے فقدان اور حقوق مانگنے کی بات کرے تو زمانہ نظریاتی آدمی کے ہاتھ پر بیعت شروع کر دیتے ہیں حضرت اقبال اور محترم حبیب جالب بھی اسی جہاد کے سالار ہیں

 نظریاتی شاعری میں وقت حاضر کی باکمال شاعرہ کومل بخاری جن کو حقوقِ نسواں کا علمبردار بھی کہا جائے تو مبالغہ آرائی نہ ہوگی
 
 "ایک شخص مجھ سے گواہ مانگتا ہے"
 
جیسی نظم نے معاشرے میں خواتین پر جسمانی اور ذہنی تشدد کے جیسے واقعات کو غمگین حالت میں لکھا پڑھتے ہوئے قصور کی ننھی زینب، موٹروے زیادتی اور ناجانے ہزاروں ایسے واقعات ذہن میں آتے ہیں جس سے آنکھ اشکبار ہوجاتی ہے

نظم آپ احباب کے پیش خدمت ہے


ستم کے ذروں کے نشاں مانگتا ہے
ایک شخص مجھ سے گواہ مانگتا ہے

میلی وہ مجھ پر نگاہ ڈالتا ہے
میں روکوں! تو مجھ سے گواہ مانگتا ہے

سڑکوں میں گلیوں میں بسوں میں کاروں میں
طلب وہ مجھ سے ہر جگہ مانگتا ہے

زخم سے بہتا ہوا خوں مانگتا ہے
ایک شخص مجھ سے گواہ مانگتا ہے

ہاتھ سے نظروں سے لہجوں سے جملوں سے
جسم کو میرے وہ ہر گھڑی ناپتا ہے
میں جو ٹوکوں، تو مجھ سے گواہ مانگتا ہے


نہ کو وہ میری ہاں مانتا ہے
آواز جو اٹھاؤں تو گواہ مانگتا ہے

ویرانے میں رات اک سیاہ مانگتا ہے
صبح جو اٹھوں تو گواہ مانگتا ہے


روزمحشر دیکھتے ہیں کون کیا مانگتا ہے
سنا ہے ایک خدا ہے جو نہ کوئی گواہ مانگتا ہے

 کومل بخاری اردو کا بھی مستقبل ہیں، آپ نے 29 جون 1996 ء کو فیصل آباد میں آنکھ کھولی، آپ کے آباؤ اجداد تقسیم برصغیر کے بعد لکھنوء سے جھنگ میں آکر آباد ہوئے جس کی وجہ اردو سے لکھنوی محبت نظر آتی ہے.
 آپ نے لاہور گرائمر اسکول سے میٹرک، پنجاب کالج ملتان سے انٹرمیڈیٹ پاس کیا، والد پولیس میں اعلی پوسٹ پر ہونے کی وجہ سے تبادلے ہوتے رہتے تھے اس کی وجہ سے ایک سے دوسرے شہر منتقل ہونا پڑتا تھا
 بالآخر لاہور میں سکونت اختیار کی جہاں بیکن ہاؤس نیشل یونیورسٹی سے لبرل آرٹ اینڈ سوشل سائنسز کی ڈگری حاصل کی.

2018 کے فیض فیسٹیول کے دوران شبانہ اعظمی نے کیفی اعظمی کے چند اشعار سنائے جن میں ایک شعر

جنت ایک اور ہے
جو مرد کے پہلو میں نہیں

نے کومل بخاری کو قلم اٹھانے پر مجبور کیا. آپ کی پہلی نظم " ڈولیاں مجھے اچھی نہیں لگتیں" کو بھی خاصا پسند کیا گیا


ڈولیاں مجھے اچھی نہیں لگتیں
ان میں بیٹھی نکاح کی قیدن مجھے اچھی نہیں لگتی
بس میں میرے ہو اگر
چوڑیاں یہ توڑ دوں
ملکیت کی مہندی نچوڑ دوں
بچپن کی گڑیا سے پھر میں کہوں
ڈولیاں مجھے اچھی نہیں لگتیں

یہ کیا؟ کہ تم ہی حاکم رہو , جابر رہو , مجازی رہو قاتل رہو؟
کچھ اب میری سنو
سارے شہر کو اب یہ پیغام دو
ڈولیاں مجھے اچھی نہیں لگتیں

جو پوچھو کہ تم نے کیا دیا؟
نہ گھر دیا نہ حق دیا یونہی کس کے سر دیا
یہ دوغلے سے معاملے
میرے دل کے ہیں زہر بنے
زہر یہ خود پر وار دوں
ہر مذہب سے پھر میں کہوں
ڈولیاں مجھے اچھی نہیں لگتیں


آپ نے شاعری شروع کرنے کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو آپ نے شگفتہ انداز سے کہا
"مجھے گمان ہے کہ میں زیادہ حساس ہوں معاشرے میں خواتین پر ہونے والے ظلم و ستم مجھے اذیت دیتے ہیں
مجھے لگتا ہے میں زندگی گزار نہیں بلکہ کسی جبر مسلسل کی طرح کاٹ رہی ہوں. میں عورت کی محرومیوں پر لکھنے کوشش کررہی ہوں تاکہ میں شمع روشن کی رکھوں"

  آپ اردو میں ادب میں سارہ شگفتہ اور محسن نقوی بہت پسند ہے
سارہ شگفتہ (دا کوئین آف ان فلفل ڈریم) کی بات میں انسان کو انسان ہونے کا معاوضہ دیتی ہوں سے بہت متاثر ہیں
آپ کے بقول اگر ہم اس بات ہم اپنی زندگی کا حصہ بنالیں تو معاشرے میں انسانیت دوبارہ زندہ کی جاسکتی ہے


 انگریزی لٹریچر میں مایا اینجلا، اینجلا ڈیوس کو شوق سے پڑھتی ہیں. حقوق نسواں کے حوالے سے کہتی ہیں
 ہمارے ہاں عورت کو صنف نازک بنادیا گیا. جبکہ ایسا نہیں عورت اگر پڑھی لکھی خود مختار ہوگی تو معاشرے کے لیے بہتر کام کرے گی. حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ بھی تو تجارت کا کاروبار کرتی تھیں.
 اسلام عورت کو حقوق دیتا ہے مگر افسوس ہمارے معاشرے میں عورت کا حقوق حاصل نہیں ہیں. عورت کو کمزور اور بزدل بن کر بند کردیا جاتا ہے جبکہ عورت بہت مضبوط ہے. عورت تمام رشتوں کے علاوہ ایک انسان بھی تو ہے. اس کو انسانی حقوق ملنے چاہیے

رومانیت، ہجر و وصل کی شاعری کے بارے میں ان نے کہا "لوگ مجھے کہتے ہیں آپ محبت کے جذبات، رومانوی پر لکھا کریں آپ کو شہرت اور پیسہ ملے گا جبکہ شہرت، پیسہ کمانا میرا مقصد نہیں ہے میں خواتین کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہوں.
میں تھوڑا ہی سہی مگر معاشرے کو بدلنا چاہتی ہوں ایسے معاشرہ کا خواب دیکھتی ہوں جہاں عورت کو بھی انسان سمجھا جائے جہاں عورت سیاہ رات میں بھی محفوظ ہو ایسا معاشرہ چاہتی ہوں جہاں بھیڑیے اور درندے نہیں بلکہ انسان رہتے ہوں"

یہ عزم، ہمت لے کر کومل بخاری تن تنہا اپنا سفر رکھے ہوئے ہیں.


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM