ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Nishat-1 حادثے سے بال بال بچ گیا.    Newly posted SSPs in Punjab police visit PSCA, PPIC3.    "  لڑکیاں صرف ماں کی کوکھ یا پھر قبر میں محفوظ ہیں" طالبہ نے خودکشی کر لی.    "میں ناگن، تو سپیرا " پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل.    "منی ہائسٹ "(Money Heist )کاآخری حصہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ریلیز کیا جائے گا.    NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.    NA-133 ضمنی انتخاب : جمشید اقبال چیمہ کی اپیلوں پر الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ جاری.   

home-add

ویکھو شہر لاہور

نعیم گھمن
30 Jun, 2022

30 جون ، 2022

نعیم گھمن
30 Jun, 2022

30 جون ، 2022

ویکھو شہر لاہور

post-title

(شاہ ابو المعالی سے تکیہ حسو تیلی جھنڈا چوک )

کالج سے گرمیوں کی چھٹیاں ہیں ۔اب صبح سویرے کالج جانے کی فکر نہیں ہوتی ہے ۔اس لیے دل میں ہر سو فتنے جاگتے ہیں کہ بے جا آوارگی کی جائے۔شہر بے مثال کے کسی کونے میں بیٹھ کر ماضی کے در وا کیے جائیں۔اس دفعہ میری  یہ لاہور گردی جناب شاہد صاحب کے اصرار پر تھی ۔ان کا گلہ تھا کہ جناب ہمیشہ اکیلے ہی اندرون لاہور چلے جاتے ہیں اور مجھے ساتھ کیوں نہیں لے جاتے  ۔


شاہد صاحب کے ساتھ اتوار والے دن صبح پانچ بجے کا وقت طے ہوا ۔میں نے سعد کو پابند کیا کہ وہ مجھے گھر سے لے گا ۔سعد بھی جنونی آوارہ گرد ہے ۔
میں ابھی کسی  بھلے سے خواب کی شروعات کر ہی رہا تھاکہ محبت کا مارا سعد  پانچ بجے میرے دروازے پر گھونسوں کی بارش کر رہا تھا ۔میں نے فون کر کے دس منٹ کا وقت لیا ۔میں نے مشکل سے آنکھیں کھولی ہی  تھیں  کہ فون کی گھنٹی نے ادھم مچایا تو شاہد صاحب کال کر رہے تھے کہ میں کہاں پہنچوں ۔میں نے اسے لکشمی چوک پہنچنے کا کہہ دیا ۔
صبح سویرے منہ اندھیرے ہم تھے اور شہر بے مثال کی سڑکیں تھیں ۔سعد کو میں نے کہا ہم لوگ گڑھی شاہو کی بجائے ایچسین کالج کے پیچھے سے ہوتے ڈیوس روڈ پر جائیں گے ۔جب اس روڈ سے گزرے تو چند خواتین جامن چن رہی تھیں اور دو نوجوان اک بڑی لاٹھی کے ساتھ آموں کے درختوں پر حملہ آوار تھے ۔اس سڑک پر جامن اور آ م کے درخت پھلوں سے لدے ہوئے ۔کہیں کہیں پرندوں کی ہلکی آوازیں بھی آ رہی تھیں ۔گلہریاں اپنے نوکیلے  دانتوں کے ساتھ  آموں پر ہاتھ صاف کر رہی تھیں  ۔مستانہ وش ہوا کے کچھ جھونکے ہمارے سینے کو چومتے ہوئے گزر رہے تھے۔درختوں سے  گرتے ہوئے پتوں کا ہلکا پھلکا رقص بھی جاری تھا ۔نہر سے نکلنے والے پختہ کھال میں پانی کناروں پر لگی گھاس سے  گدگدی کرتا ہوا  گزر رہا تھا ۔
میرے لیے یہ منظر بڑا ہی پر لطف تھا ۔درخت یوں لگتے تھے کہ جیسے  اپنے بازو پھیلائے مجھے روک کر کہہ رہے تھے کہ اندرون جانے کی بجائے آج صبح کا کچھ وقت ان کی پہلو میں گزارا جاوے ۔سچ کہوں تو صبح کے وقت اس  سڑک کا منظر بے مثال تھا ۔میں نے سعد کو آہستہ سے کہا کہ ذرا دھیرے سے اس کوچے سے گزرنا تاکہ میں جی بھر کہ ان پرندوں اور درختوں سے باتیں کر سکوں ۔


سعد نے مجھے کہا کہ جناب کن نظاروں میں  گم  ہیں ۔
ہمیں تو آج صبح کے وقت شاہ ابو المعالی کے صحن میں لگے ہوئے بوہڑ کے تاریخی درخت پر بیٹھے ہوئے کبوتر بلا رہے ہیں ۔میں نے یہ سن کر سعد کو کہا سکوٹر کی رفتار ذرا بڑھا دے ۔ہم لوگ لکشمی چوک پہنچے جہاں پر شاہد صاحب منہ میں نسوار کی چٹکی دبائے آہستہ آہستہ چہل قدمی کر رہے تھے ۔لکشمی چوک سے لاہور ہوٹل کی طرف جائیں تو مغربی جانب ایک گلی میں شاہ ابو المعالی کی درگاہ ہے ۔ہم لوگ درگاہ میں داخل ہوئے تو کبوتر  دانہ چگ رہے تھے ۔گیٹ کے ساتھ ہی اک بڑا چبوترا تھا جس پر زائرین دانہ ڈالتے ہیں ۔یہ مغلیہ طرز تعمیر کا بنا ہوا پرشکوہ سفید رنگ کا مقبرہ تھا جس میں شاہ ابو المعالی میٹھی نیند سو رہے ہیں ۔صبح سویرے ہم نے ان کو آن جگایا ۔انہوں نے مسکرا کہا کہ صحن میں میرے ملنگ چائے کی چینک لیے بیٹھے ہیں اگر من چاہے تو اک اک جام نوش کرتے جانا ۔ہم نے صحن میں دیکھا تو واقعی چائے کا دور چل رہا تھا ۔شاہ ابو المعالی کےمزار کے اطراف میں ان کی اولاد کی قبریں ہیں ۔صحن میں اک بڑا درخت ہے ۔مغرب کی جانب اک مسجد ہے ۔شاہ ابو المعالی کی درگاہ کے باہر صبح سویرے کئی خواتین بیٹھی تھیں ۔ہم نے حیرانی سے یہ منظر دیکھا کہ وقفے وقفے سے دو چار لوگ آتے  اور  ان خواتین کی جھولی میں کچھ پیسے ڈال کر چلتے بنتے تھے ۔


کچھ خواتین نے ہمیں بھی کہا کہ بابو آپ نے کچھ نہیں بانٹنا ہم ان کے استفسار پر خاموشی سے اپنی راہ پر چل دئیے ۔
ناشتے کے لیے  ٹیمپل روڈ گئے اور  حنیفے کے مشہور زمانہ  پائے کھائے ۔حنیفے کے پاس صبح سویرے شدید رش تھا ۔اس کے تمام ہال بھرے ہوئے تھے ۔ہمیں شکم کی آگ بجھانے میں  کافی وقت لگ گیا ۔پائے کا شوربہ خاصا لذیذ تھا مگر ناشتہ شاہد صاحب کو مطلقا پسند نہ آیا ۔جب ہم ناشتہ  کر کے  باہر نکلے تو کئی فقیر ۔بھنگی اور چرسی  فٹ پاتھ پہ بیٹھے شوربے کے ساتھ ناشتہ کر رہے تھے ۔مجھے یوں لگتا ہے ان کا کوئی خصوصی پیکج حنیفے کے پاس ہوتا ہو گا ۔


اب شاہد صاحب کا اصرار تھا کہ آوارگی  ریلوے روڈ کالج سے شروع کی  جائے ۔میں نے اتنے بھرپور اصرار کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے جناب اس کالج میں ممتاز مفتی پڑھتا رہا ہے ۔میرا دل میں بھی اک لالچ آگیا کہ چلو اسی بہانے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور کے سامنے اس بلڈنگ کو دیکھا جائے گا جس میں کبھی  عرب ہوٹل ہوتا تھا ۔ہم لوگ ریلوے روڈ کالج پہنچے تو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ صبح سات بجے تک اس کا گروانڈ شہریوں کے لیے کھلا ہوتا ہے تاکہ وہ ہوا خوری کر سکیں ۔ہائے کبھی یہ کالج اور علاقہ لاہور کا دل ہوتا تھا مگر اب معززین شہر مدت سے ہجرت کرکے پوش علاقوں میں جا بسے ۔اب اس کالج کے اطراف میں لوہے کا کاروبار زور و شور سے جاری ہے ۔چنیدہ گھرانے ہیں جو کسی مجبوری کی وجہ سے یہیں کہ ہو رہے ۔


ہم نے کالج کا تاریخی حبیبہ ہال دیکھا ۔اس کے گراؤنڈ اور عمارتوں سے تاریخ کی خوشبو کو محسوس کیا ۔یہی وہ کالج ہے جس کے  طلباء نے قائد اعظم کی بھر پور مدد کی تھی ۔پاکستان بنانے میں اس کالج کا توانا کردار ہے ۔تحریک پاکستان کے دوران قائد اعظم معتدد دفعہ اس کالج میں تشریف لائے تھے ۔علامہ اقبال کی سنائی گئی نظموں کی لطافت آج بھی اس کالج کے درودیوار سے محسوس کی جا سکتی ہے  ۔صبح سویرے کالج کی سفید رنگ کی عمارت اپنی تمام تر رعنائیاں کے ساتھ اک داستان سنا رہی تھی ۔کالج دیکھنے کے بعد میری نظریں کالج گیٹ کے باہر اس عمارت کو تلاش کر رہی تھیں جس میں کبھی  عرب ہوٹل کے کبابوں کا دھواں پھیلا رہتا تھا ۔میں نے دو چار لوگوں سے پوچھا مگر جواب ندارد ۔شاہد نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ " چھڈو جی اگے چلیے " مگر میرا دل تھا کہ یہ جگہ ہمیں مل ہی جائے گی ۔کالج گیٹ پر موجود ملازم نے کہا کہ آپ لوگ انتظار کریں میں اپنے والد کو بلاتا ہوں وہ اس کالج میں طویل مدت سے ہیں ۔
اس کے والد جب تشریف لائے تو انہوں گیٹ سے مشرق کی سمت کارنر کی دوکان کے متعلق کہا کہ یہیں تاریخی عرب ہوٹل ہوتا تھا ۔دوستو عرب ہوٹل لاہور کا معروف چائے خانہ بھی تھا ۔جسے اک کویتی باشندے عرب العبود نے بنایا تھا۔ اس ہوٹل میں شہر بے مثال کے ادیب اور شاعر آ کر بیھٹتے ہوتے تھے ۔اب عمارت اپنی اصلی حالت میں نہیں  تھی اس کو دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے ۔اب نہ عرب ہوٹل رہا نہ ہی اس کے مکین باقی رہے ۔


اب ہماری منزل موچی گیٹ تھی ۔سعد کو میں نے کہا کہ میاں ذرا جلدی کیجو ورنہ سورج جیسے جیسے اوپر کو جائے گا ہماری آوارگی دھری کی  دھری  رہ جائے گی ۔موچی گیٹ کے باہر تاریخی میدان ہے میں جس میں بڑے بڑے نامور خطبا اپنی خطابت کے جوہر دیکھاتے رہے ہیں ۔موچی گیٹ اکبر بادشاہ کے عہد میں تعمیر کیا گیا تھا ۔
جب ہم لوگ موچی گیٹ میں داخل ہوئے تو سارا شہر خاموش تھا ۔چند لوگ آ  جا رہے تھے ۔ہم نے شاہ جہانی عہد کی مسجد صالح کمبوہ کو دیکھا ۔


راستے میں جب گورو ارجن دیو جی کا مشہور زمانہ لال کھوہ آیا تو اس کے قریبی تھڑے پر تھوڑی دیر بیٹھ گئے ۔اب اس لال کھوہ کی چند باقیات موجود ہیں ۔اک بزرگ کا مزار ہے اس کو رنگ لال کیا ہوا ہے۔اس کنویں سے ماضی میں اہلیان لاہور پانی پیتے ہوتے تھے ۔تھوڑے قدم چلے تھے تو مجھے یوں احساس ہوا کہ اردو ادب کا عظیم انشاء پرداز مولانا محمد حسین آزاد چوک نواب صاحب کی دوکان پر بیٹھا دلی کے حالات بیان کر رہا ہے ۔گفتگو کے دوران کبھی کبھی غصے کے  عالم میں انگریزوں کو صلواتیں بھی سنا رہا تھا ۔میرے ان احساسات کی وجہ یہ تھی کہ یہ کوچہ مولانا محمد حسین آزاد تھا ۔مولانا جب لاہور آئے تھے تو یہیں رہتے تھے ۔چوک نواب صاحب میں ان کی رہائش گاہ پر اک تالا پڑا ہے ۔پرانی خستہ ہال عمارت ہے شاید آجکل اس کو گودام بنا دیا گیا ہے ۔


مولانا آزاد کے گھر کے ساتھ ہی اک سڑک اکبری گیٹ کو بھی جاتی ہے ۔ مدت سے مولانا آزاد کی رہائش گاہ دیکھنے کی میری خواہش تھی جو آج پوری ہو رہی تھی ۔ہم لوگ  چوک نواب صاحب میں تھوڑی دیر بیٹھے رہے  ۔اندورن لاہور کا اک اک کونہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے ۔اندرون موچی گیٹ میں ہر سو خوشبو حب اہل بیت بھی پھیلی ہوئی ہے ۔یوں لگتا ہے اس جگہ کا اک ذرہ ذرہ بھی لبیک یا حسین کی صدا سے مامور ہے ۔موچی گیٹ کی پوری دنیا میں شہرت عشرہ محرم الحرام کی وجہ سے بھی ہے ۔نثار حویلی سے تاریخی ماتمی جلوس نکالا جاتا ہے۔
اندرون موچی گیٹ کی خلفیہ بیکری کے بسکٹ اور خطائی ،لال کھوہ کا کھویا اور مہر داس کا کلچہ بہت مشہور ہیں ۔
اس کے بعد شاہد اور سعد کے ہمراہ وزیر خاں مسجد پہنچے ۔ہم تو باہر احاطے میں آلتی پالتی مار کر بیٹھے رہے ۔چونا منڈی میں گوردوارہ گورو رام داس جی کے جنم آستان پر کچھ وقت گزار کہ رنگ محل چوک میں ایاز کا حال احوال معلوم کیا ۔


اب ہمارا آخری پڑاؤ جھنڈا چوک میں حسو تیلی کا تکیہ تھا ۔ہم لوگ چوک جھنڈا پہنچے تو وہاں بہت  کم لوگوں کو حسو تیلی کا پتہ تھا ۔حسو تیلی عام طور پر حسن شاہ ولی کے نام سے معروف ہیں ۔جب کچھ لوگوں سے پوچھا تو ان کا جواب نہیں میں تھا ۔دل اس وقت تیزی سے دھڑک اٹھا جب جھنڈا چوک میں اک شخص نے ہنس کہ کہا آپ لوگ حسو تیلی کے تکیہ کے پاس ہی  ہیں ۔ہم حیران ہوئے کہنے لگا وہ سامنے بوہڑ کے درخت کے ساتھ مڑیں تو آپ کو بیٹھک نظر آ جائے گی ۔دو چار قدم پر ہی حسو تیلی کا تکیہ تھا مگر اس کو تالا لگا ہوا تھا ۔اتوار کی وجہ سے اکثر دوکانیں بند تھیں ۔اب میرے چہرے پہ پریشانی کے آ ثار نمایاں ہونے لگے کیونکہ مجھے ساری محنت اکارت جاتی دیکھائی دے رہی تھی ۔دو چار لاہوری بابے تھڑے پہ بیٹھے گپیں لگا رہے تھے ۔میں نے بلند آواز سے کہا کہ بابا جی یہ کیسے کھلے گا ۔ان میں سے ایک بزرگ اٹھ کے ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اتوار والے دن یہ بند ہوتا ہے ۔اچانک اس نے اک موٹر سائیکل کو دیکھا تو کہنے لگا اس تکیے کی چابی جس کے پاس ہے وہ  لڑکا تو آیا ہوا ہے ۔

اس نے آواز دی فیصل نیچے آو ۔اک جوان لڑکا ہمارے پاس آیا ۔ہم نے اسے کہا کہ یار حسو تیلی کا تکیہ دیکھاؤ ۔اک مدت سے ہمیں بابا جی بلا رہے ہیں ۔اس نے تالا کھولا تو دل خوش ہوا ۔اک شاندار صاف ستھرا  کمرا تھا ۔فیصل نے بتایا کہ یہ پہلے کچا کمرا تھا مگر اب اسے پختہ بنا دیا گیا ہے۔تھوڑی دیر حسو تیلی کی بابت باتیں کرتے رہے ۔۔فیصل نے بتایا کہ اس تکیے کے اوپر بنائی گئی عمارت کسی کےنام نہیں ہے ۔ہمارے آباؤ و اجداد پشت در پشت جہاں کاروبار کرتے چلے آ رہے ہیں ۔اس تکیے کا انتظام ہمارے ذمے ہے ۔سال میں ایک بار اس جگہ عرس بھی منایا جاتا ہے ۔فیصل نے کہا کہ میں عموما اتوار کو جہاں نہیں آتا ۔آج میرا دل کیا کہ چکر لگا آؤں ۔میں نے ہنس کہ کہا کہ حسو تیلی نے کہا ہو گا آوارہ گرد میرے تکیے پہ ا رہے ہیں ۔ان کو اگر تکیہ بند ملا تو اچھا نہیں ہو گا ۔میں نے فیصل کو کہا یار اگر حسو سکے تو اس چوک میں تکیہ حسو تیلی المعروف حسن شاہ ولی کا بورڈ لگا دو ۔


اس کے بعد چوک میں لگے جھنڈے کے پاس گئے ۔یہ جھنڈا بھی حسو تیلی کی یادگار ہے ۔ہر سال عرس کے موقعہ پر نیا کپڑا لپیٹا جاتا ہے ۔چوک میں لگا بوہڑ کا درخت بھی بازو کھولے حسو تیلی کے قصے سنا رہا تھا ۔شہر لاہور کا حقیقی حسن یہی درگاہیں تکیے اور تھڑے ہیں ۔ان سے محبت کی خوشبو آتی ہے ۔
اب دن کے دس بج چکے تھے ۔شاہد خاصا جذباتی تھا کہ اور بھی کچھ دیکھا جائے۔موری گیٹ سے باہر نکل کر میں نے اسے  کہا آپ کو داتا علی ہجویری بلا رہے ہیں اور ہمیں اجازت دیں ۔ گرمی سے ڈرتا ہوا میں سعد کے ساتھ واپس گھر آ گیا ۔
 


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM