ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Nishat-1 حادثے سے بال بال بچ گیا.    Newly posted SSPs in Punjab police visit PSCA, PPIC3.    "  لڑکیاں صرف ماں کی کوکھ یا پھر قبر میں محفوظ ہیں" طالبہ نے خودکشی کر لی.    "میں ناگن، تو سپیرا " پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل.    "منی ہائسٹ "(Money Heist )کاآخری حصہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ریلیز کیا جائے گا.    NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.   

جہیز ایک لعنت

انورسلطانہ
07 Nov, 2022

07 نومبر ، 2022

انورسلطانہ
07 Nov, 2022

07 نومبر ، 2022

جہیز ایک لعنت

post-title

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ انسان اجتماعیت پسند ہے اور اس کی زندگی اور بقاء اجتماعیت کے بغیر ممکن نہیں ۔اس لیے  وہ روز ازل سے ہی ممکن نہیں ۔اس لئے وہ روز ازل سے ہی اچھی زندگی گزارنے کے لئے اجتماع بنانا چلا آ رہا ہے اور اس اجتماع کو معاشرے یا سماج کا نام دیا گیا ہے ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر انسانی معاشرے یا سماج میں مختلف خرابیاں یا مسائل پیدا ہوتی ہیں کیونکہ خرابیوں کو دور کر کے ہی انسان اپنی زندگی اور بقاء کو ممکن بنا سکتا ہے ۔دوسرے ادوار کی طرح آج کے اس ترقی یا فتہ دور میں بھی انسان اسی طرح کی کچھ خرابیوں اور مسائل کا شکار ہے ۔ان میں سے ایک بڑی او سماجی برائی جسے معاشرتی لعنت بھی کہا جاتا ہے وہ ’’جہیز ‘‘ہے ۔
 ’’جہیز ‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی اسباب اور سامان کے ہیں ۔جہیز اس سامان کو کہتے ہیں جو لڑکی کو نکاح میں اس کے ماں باپ کی طرف سے دیا جاتا ہے ۔جہیز دینے کی رسم پرانے وقتوں سے چلی آ رہی ہے ہر ملک اور ہر علاقے میں جہیز مختلف صورتوں میں دیا جاتا ہے لیکن عام طور پر جہیز زیورات،کپڑوں،نقدی،الیکٹرونکس کاسامان ،اور گھریلو استعمال کے برتنوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں یہ رسم ہندو اثرات کی وجہ سے داخل ہوئی اور بعد میں اس نے ایک لعنت کی شکل اختیار کر لی ۔
 ’’جہیز ‘‘ ایک قدیم رواج ہے اور اس کا وجود اس کے ریکارڈ کو اچھی طر ح ظاہر کر تا ہے ،صدیوں سے لڑکی والوں سے جہیز کی توقع کی جا رہی ہے اور آج بھی دنیا کے کچھ حصوں میں شادی کی تجویز کو قبول کرنے کی شرط کے طور پر جہیز مانگا جاتا ہے ۔جہیز کا رواج ان تہذیبوں میں سب سے زیادہ  عام ہے جو پختہ سر پرستی کی حامل ہیں کچھ ایشائی ممالک میں جہیز سے متعلق  تنازعات بعض اوقات خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کا نتیجہ بنتے ہیں جن میں قتل،مار پیٹ اور تیزاب کے حملے جیسے واقعات شامل ہیں ۔
 ’’جہیز ‘‘ ایک لعنت ہے
یہ بات تو ہم چھوٹے ہوتے سے ہی سنتے آ رہے ہیں مگر اس لعنت کے خاتمے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے جوکہ معاشرے کی سب سے تلخ حقیقت ہے ،ویسے تو بظاہر جہیز دنیا بری بات نہیں ،والدین اپنی مرضی اور استطاعت کے مطابق جو کچھ بھی اپنی بیٹی کو دیتے ہیں ،لڑکے والوں کو اس سامان کو خوشی خوشی قبول کر لینا چاہیے ۔ ’’جہیز ‘‘ کو اس لیے بھی لعنت قرار دیا گیا ہے کہ لڑکے کے خاندان والے جہیز میں گاڑی ،موٹر سائیکل، یا قیمتی اشیاء کا مطالبہ یہ جانتے ہوئے کرتے ہیں کہ بے شک لڑکی والی حیثت میں کمزور ہیں لیکن وہ اپنی بیٹی کا گھر بسانے کے لئے لڑکے والوں کے مطالبات کو ہر صورت پورا کریں  گے
میں تو حیران  ہوں کہ ایک باپ اپنے جگر کا ٹکڑا کسی کو سونپ رہا ہوتا ہے جو اسکی کل کائنات ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اسے چیزوں میں تولتے ہیں ،ایک باپ اپنی زندگی کی انمول دولت اس کی بیٹی تمہارے حوالے کر رہا ہے جس نے آگے چل کر تمھارے خاندان کی نسل کو آگے بڑھانا ہے مگر لوگ ا س کے باوجود گاڑی،فریج،موٹر سائیکل،جیسی اشیاء کو اہمیت دیتے ہیں ؟افسوس ہے ایسے لوگوں پر اور انکی سوچ پر ۔جہیز کیا ہے اس کی قدرروقیمت اس باپ سے پوچھو جس کی جمع پونجی بھی چلی گئی اور بیٹی بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف دیکھا جائے تو اکثر غریبوں کی بیٹیاں صرف جہیز کی وجہ سے کنواری رہ جاتی ہے اور جہیز کا مطالبہ پورا نہ ہونے سے ان کی عمر بھی نکل جاتی ہے اور اگر ماں باپ  قرض لیکر ان کے لئے جہیز کا انتظام کر بھی لیں تو ماں باپ کی زندگی نکل جاتی ہے اس قرض کو چکانے میں ۔
ماں باپ کا گھر بکا تو بیٹی کا گھر بسا
کتنی نامراد ہے یہ رسم جہیز کی
کیا کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ جب حضرت فاطمہـؐ  کی شادی حضرت علی ؑسے ہوئی تو آپﷺ نے انکو جہیز میںکونسی چیزیں دی تھیں؟
صرف ایک چادر،ایک جوڑا،اور ایک پیالہ۔۔۔اب سوال یہ ہے کہ ہمارے آج کل کے اور ان کے جہیز میں اتنا فرق کیو ں؟
آج کل کے دور میں ایک لڑکی کا نکاح کرنا بہت مشکل ہے اور اسکو مشکل کس نے بنایا ہے ؟صرف اور صرف ہم لوگوں  نے ۔
آج سے پہلے انسان سیدھا سادہ تھاوہ نہ تو جہیز پسند کرتا تھا اور نہ ہی خود سے اس کا مطالبہ کرتا تھا بلکہ ماں باپ اپنی خوشی سے اپنی بیٹی کو جو چاہیں دیںلیکن اب پڑھے لکھے ہونے کے باوجود بھی لوگ اس لعنت کو قبول کر چکے ہیں اور اب تو لڑکے والوں کی طرف سے باقاعدہ طور پر ڈیمانڈز کی لمبی لسٹ دی جاتی ہیں چاہے لڑکی والے انکی ڈیمانڈز پوری کرنے کی استعداد رکھتے ہوں یا نہیں ؟
آپ اپنی زندگی میں ایسے آ دمیوں سے ملے ہوں گے جو شادی سے پہلے جہیز ایک لعنت ہے پر لمبے چوڑے لیکچر دیتے ہیں اور شادی کے دن جہیز کا ٹرک اپنی نگرانی میں اترواتے ہیں ۔اکثر دیکھا جاتا ہے کہ لڑکے والے بہو کو گھر لانے کے لئے جہیز کو اپنا جائز حق سمجھتے ہیں لیکن یہی لوگ اپنی بیٹی کی شادی میں جہیز کے مخالف کیوں بن جاتے ہیں ؟ میرا ان سب سے سوال ہے کہ جہیز لینے کے لئے تیار کیوں اور دینے سے انکار کیوں ۔۔۔۔؟ایک اور رواج جو آج کل بہت عام ہوگیا ہے کہ لڑکے کے علاوہ اس کے تمام گھر والوں کو قیمتی تحائف اور سونے کے زیورات سے نوازا جاتا ہے ۔ اسی لئے ہمارے معاشرے میں میں نہ جانے کتنی ہی لڑکیاں اسی وجہ سے بن بیاہی رہ جاتی ہیں کیونکہ ان کے والدین کے پاس ان کو دینے کے لئے جہیز کا سامان نہیں ہوتا :’’ ہم تھوڑی مانگ رہے ہیں یہ توخود بیٹی کو دے رہے ہیں ‘‘ کے نام پر جہیز بے حد خوشی سے وصول کیا جاتا ہے ۔ویسے تو جہیز ایک لعنت ہے لیکن اگر یہ دیا جائے تو کیا ہی بات ہے ۔۔اسی بہانے ہمارے گھر کا فرنیچر ہی تبدیل ہوجائے گا ۔دنیا میں ایسے کئی ممالک ہیں جہاں جہیز لڑکی والوں کی بجائے لڑکے والے دیتے ہیںافریقہ اور چین میںبھی یہی رواج عام ہے کہ لڑکے والے جہیز دیتے ہیں اور یہاں لڑکی والوں کو یہ حق بھی حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کاجہیز مانگ سکتے ہیں اور وہ لڑکے والوں کو دینا پڑتا ہے اور لڑکی والوںکی مرضی ہے وہ یہ سامان اپنی لڑکی کو دے دیں یا اپنے پاس رکھ لیں ،لیکن وہاں بھی نوجوان لڑکوں نے ا س رسم کی نفی شروع کر دی ہے کیونکہ ان کو لگتا کہ اس طرح جہیز دے کر ان کی قیمت لگائی جا رہی ہے اور اگر ہم اپنے ملک کی بات کریں تو یہاں الٹا رواج ہے لڑکی والے بیٹی تو سیتے ہیں ساتھ ساتھ جہیز بھی دیتے ہیں اس کے باوجود ان کی بیٹی کو سسرال میں عزت نہیں ملتی ۔
اب اس مسئلے کا حل کیا یہ سوچیں شاید آپ کو اس کا حل مل جانے کے بعد آپ جہیز جیسی لعنت کے خلاف ہو جائیں اور آپ کو بھی احساس ہو کہ ہمارے معاشرے کی سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تب ہی یہ برائی ختم ہو پائے گی اور اس کے ساتھ حکومتی سطح پر ایسے اقدامات کیے جانے چاہیں جن کی وجہ سے اس سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے جیسے کہ ہمارے ملک کے نصاب میںباقاعدہ طور پر ایسے مضامیںشامل کیے جائیں جن کی وجہ سے جہیز جیسی برائی کو ختم کرنے میں مدد مل سکے ۔

 


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM