ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Nishat-1 حادثے سے بال بال بچ گیا.    Newly posted SSPs in Punjab police visit PSCA, PPIC3.    "  لڑکیاں صرف ماں کی کوکھ یا پھر قبر میں محفوظ ہیں" طالبہ نے خودکشی کر لی.    "میں ناگن، تو سپیرا " پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل.    "منی ہائسٹ "(Money Heist )کاآخری حصہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ریلیز کیا جائے گا.    NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.    NA-133 ضمنی انتخاب : جمشید اقبال چیمہ کی اپیلوں پر الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ جاری.   

یہ 24 گھنٹےکام کرنیوالی عدالت ہے،کسی کو سپریم کورٹ پر انگلی اٹھانےکی ضرورت نہیں

ویب ڈیسک
18 Apr, 2022

18 اپریل ، 2022

ویب ڈیسک
18 Apr, 2022

18 اپریل ، 2022

یہ 24 گھنٹےکام کرنیوالی عدالت ہے،کسی کو سپریم کورٹ پر انگلی اٹھانےکی ضرورت نہیں

post-title

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نےکہا ہےکہ سوشل میڈیا پر جو چل رہا ہے اس کی پرواہ نہیں، آئین کی پاسداری ہماری ذمہ داری ہے، یہ 24 گھنٹے کام کرنے والی عدالت ہے،کسی کو سپریم کورٹ پر انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں۔

سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے دائر صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیےکہ آئین کی خلاف ورزی کوئی چھوٹی بات نہیں،کچھ لوگ تو فوراً  آرٹیکل 6 پر چلے جاتے ہیں، ہم نے دیکھنا ہے جب آئین کی خلاف ورزی ہو اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے، کیا آئینی خلاف ورزی پرکوئی ہنستے کھیلتےگھنٹی بجاکر نکل جائے یا آئینی خلاف ورزی کا خمیازہ بھگتنا چاہیے۔

چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ ہم آئین کے محافظ ہیں، یہ 24 گھنٹےکام کرنے والی عدالت ہے،کسی کو سپریم کورٹ پر انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں،سوشل میڈیا پر جو چل رہا ہے اس کی پرواہ نہیں۔

چیف جسٹس نےکہا کہ جب دس 15 ہزارلوگ جمع ہوکر عدالتی فیصلوں پرتنقید شروع کردیں تو ہم فیصلےکیوں سنائیں؟ عدالت سیاسی بحث میں کیوں شامل ہو؟ سیاسی رہنماؤں سے توقع کرتےہیں کہ وہ پبلک میں عدالتی فیصلوں کادفاع کرسکیں، آئین کی پاسداری اور حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔

دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آبادکا کہنا تھا کہ پارٹی سے انحراف رکن اسمبلی کے حلف کی خلاف ورزی ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نےکہا کہ  آرٹیکل 63 اے کےتحت تاحیات نااہلی ہوئی تو آرٹیکل 95 کی کیا اہمیت رہ جائےگی؟  ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے جواب دیا کہ  آرٹیکل 95 کا سوال ابھی عدالت کے سامنے نہیں۔

جسٹس مینب اختر نےکہا کہ  ایسی بات سے آپ پارلیمانی جمہوریت کی نفی کررہے ہیں، پارلیمانی پارٹی کے فیصلےسےکسی رکن کو اختلاف ہے تو استعفیٰ دے، ضمنی الیکشن آزاد حیثیت سے لڑ کر  واپس آیا جاسکتا ہے، آرٹیکل 95  اور آرٹیکل 63 اے میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔

آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے صدارتی ریفرنس کی سماعت کل دن ایک بجے تک ملتوی کردی گئی۔


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM