ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.    NA-133 ضمنی انتخاب : جمشید اقبال چیمہ کی اپیلوں پر الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ جاری.    UAE گولڈن جوبلی: گلوبل ولیج تصویری مقابلہ درہم 50,000 تک جیتنے کا موقع.    IMFکے ساتھ معاملات طے پا گئے ، معاہدہ اسی ہفتے ہو گا، شوکت ترین.    UET لاہور انڈرگریجویٹ داخلہ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ.    Major progress in Lahore Police Anti-Drug Campaign.    "میرا ڈونا بلیسڈ ڈریم "کا پہلا ٹریلر جاری.    "پاکستان ممکنہ بھارتی جارحیت کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے".    Paperless driving license system is going to be introduced in Punjab.    Foolproof Security on the eve of Urs of Data Ali Hajveri (RA) and Chehlum of Hazrat Imam Hussain (AS).   

"بیادِ خواجہ فرید" 

سید اسد علی
23 Sep, 2021

23 ستمبر ، 2021

سید اسد علی
23 Sep, 2021

23 ستمبر ، 2021

"بیادِ خواجہ فرید" 

خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی رحیم یار خان کا اعلی تعلیم میں کردار تین صوبوں کے سنگم پہ واقع ہے۔ خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی رحیم یار کے دور دراز ضلع میں ایک ایسی یونیورسٹی ہے جس کے دروازے علم کی پیاس بجھانے والوں کے لئے ہر دم کھلے رہتے ہیں۔
موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیمان طاہر کی شبانہ روز کاوشوں سے یونیورسٹی دن دوگنی رات چوگنی ترقی کررہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیکلٹی اور دیگر ایڈمنسٹریٹو سٹاف ، انجینئرزاور ڈاکٹرز حتی کہ طلبہ میں آگے بڑھنے کا جذبہ قابلِ دید ہے ۔  خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈانفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی کا راز صرف وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیمان طاہر کی جانفشانہ کاوشوں کے ساتھ ساتھ حکومتِ پاکستان اور حکومت ِ پنجاب کی مشفقانہ سرپرستی بھی ہے ، جبکہ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ہمیشہ سے خواجہ فرید یونیورسٹی کو نہ صرف اپنی ماہرانہ رائے اور تجاویزات سے مستفید کیا بلکہ مختلف پروجیکٹس کی مد میں فنانشل سپورٹ بھی فراہم کی۔
گزشتہ ماہ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے خواجہ فرید یونیورسٹی میں پہلی بین الاقوامی کانفرنس "بیادِ خواجہ فرید" منعقد ہوئی جس کی سربراہی پروفیسر سلیمان طاہر نے کی، کانفرنس  بین الاقوامی سکالرز نے شرکت کی۔ امریکہ، برطانیہ، ایران، مصر ، چین، فرانس ، پاکستان اور دیگر ممالک سے عمائدین نے خواجہ غلام فرید کی شخصیت، شاعری ، صوفیانہ رنگ اور روہی میں چھپے علم و دانش کے پنہاں رازوں کو نہاں کیا۔
 وائس چانسلر نے کہا کہ پنجاب ہائرایجوکیشن کمیشن نے جس انداز میں خواجہ فرید یونیورسٹی کو اپنی سرپرستی میں آگے بڑھنے کا ہمت و حوصلہ دیا ہے یہ اسی کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ہم بہتری کی جانب رواں دواں ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ حال ہی میں گرین میٹرکس اور ٹائمز ہائر ایمپیکٹ یونیورسٹی رینکنگ کے جاری سروے کے مطابق خواجہ فرید یونیورسٹی کی عالمی رینکنگ میں نمایاں بہتری آئی ہے ، مزید برآں صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن پنجاب راجہ یاسر ہمایوں کی ذاتی دلچپسی کے سبب خواجہ فرید یونیورسٹی "کوالٹی ایجوکیشن " کیٹیگری میں دنیا بھر کی یونیورسٹی میں 300-400کے درمیان آئی ہے ، ٹائمز ہائر ایجوکیشن ایمپیکٹ رینکنگ 2021کے جاری سروے کے مطابق خواجہ فرید یونیورسٹی پاکستان میں نویں ، پنجاب میں پانچویں جبکہ جنوبی پنجاب کی تمام یونیورسٹیز میں سے پہلے نمبر پر آئی ہے ۔
 اسی طرح جاری سروے کے مطابق Climate Action اور No Povertyکی کیٹیگریز میں بھی بہت بہتری آئی ہے ۔ وائس چانسلر خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈانفارمیشن ٹیکنالوجی رحیم یار خان پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیمان طاہر نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی والہانہ قیادت میں خواجہ فرید یونیورسٹی Climate Actionکی کیٹیگر ی میں دنیا بھر میں 200-300کی فگر میں آگئی ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش ِ نظر شجرکاری مہم میں حصہ لینے اور محفوظ ماحول کے لئے کام کرنے پر جنوبی پنجاب  میں پہلے نمبر پر آگئی ہے۔  No Povertyکی کیٹیگری میں خواجہ فرید یونیورسٹی دنیا بھر میں 300-400 کے درمیان جبکہ جنوبی پنجاب میں دوسرے نمبر پر آگئی ہے۔
 بلاشبہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی قیادت میں پاکستا ن میں کوالٹی ایجوکیشن کے کلچر کو فروغ ملا ہے ،خواجہ فرید یونیورسٹی نے وزیراعظم پاکستان اور صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن کے ویثرن کے تحت اپنے مختلف پروجیکٹس پر کام کیاجس کے سبب جنوبی پنجاب میں یونیورسٹی مختلف عالمی فورمز کی رینکنگ اور سروے کے مطابق پہلے نمبر پر آگئی ہے۔ اسی طرح روڈ انفراسٹرکچر اور ناقص روڈ میٹیرئل کی پرکھ کا بھی کامیاب تجربہ کیا گیا ہے، خواجہ فرید یونیورسٹی میں پہلی بار سینی ٹائرز کا کامیاب تجربہ ہوا اور یونیورسٹی نے سینی ٹائزرز لوگوں تک پہنچائے یہ کسی بھی یونیورسٹی میں پہلا مقامی بنایا جانیوالا سینی ٹائزر تھا۔
 دوسری جانب خواجہ فرید یونیورسٹی نے اشیا خوردو نوش میں ملاوٹ کی پرکھ کے لئے بھی لیب ٹیسٹ کیا اور نتائج حیران کن تھے،یہ سب کارنامے اگر ایک یونیورسٹی سرانجام دے رہی ہے تو ہمیں بغور جائزہ لینا ہوگا کہ وہ کونسے عوامل ہیں جن کے سبب یہ سب ممکن ہوپایا۔ 
سب سے پہلی وجہ اہل اور تجربہ کار ٹیم نظر آتی ہے جو وائس چانسلر نے ذاتی پسند نا پسند سے ہٹ کر بنائی ۔قابل، محنتی اوراہل افراد پر مشتمل ٹیم نے وائس چانسلر کی سربراہی میں دن رات ایک کرتے ہوئے نہ صرف یونیورسٹی کو اپنے پاوں پر کھڑا کیا بلکہ اب یہی یونیورسٹی دیگر یونیورسٹیز کے لئے مثال بن چکی ہے۔یونیورسٹی نے کم عرصہ میں قومی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ35 سے زائد باہمی تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جس سے یونیورسٹی کی بین الاقوامی رابطہ کاری بڑھی ہے۔ اسی طرح حال میں رحیم یار خان چیمبر آف کامرس کے باہمی اشتراک سے ایک معاہدہ طے پایا جہاں یونیورسٹی نے انڈسٹریل ایسٹیٹ اور دیگر چیمبر کے افراد کو بتایا کہ خواجہ فرید یونیورسٹی انہیں جلد یہ سہولت فراہم کررہی ہوگی تاکہ وہ اپنی تجارت کو بڑھائیں اور کوالٹی پروڈکٹس کو فروغ حاصل ہو، یہ سب کامیاب تجربات پنجاب کے دور دراز علاقوں میں موجود رحیم یار خان میں ہوئے ، وائس چانسلر کے ویثرن کے مطابق یہ ابھی شروعات ہیں، مستقبل میں بڑے تجربات ہونگے اور نئی دریافتیں سامنے آرہی ہونگی۔
اسی طرح اساتذہ اور محققین کی شبانہ روز کاوشوں کے سبب خواجہ فرید یونیورسٹی نے رواں سال ہائر ایجوکیشن کمیشن میں سب سے زیادہ "قومی ریسرچ پروگرامز فار یونیورسٹیز " پروجیکٹس جمع کرائے ہیں ۔ یونیورسٹی میں ریسرچ کلچر کا فروغ وائس چانسلر کی اولین ترجیح ہے ۔ان کے ویثرن کے مطابق  اگر ہم مستقبل میں ترقی یافتہ اقوام کی صف میں خود کو دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ریسرچ کلچر کو پروان چڑھانا ہوگااور اچھے ریسرچ سکالرز پیدا کرنا ہونگے ۔ 
خواجہ فرید یونیورسٹی نے گزشتہ سال چھتر جبکہ اس سال 106 این آر پی یوز پروجیکٹس ایچ ای سی کو جمع کرائے جو کسی بھی یونیورسٹی کی جانب سے جمع کرائے گئے سب سے زیادہ پروجیکٹس ہیں ۔ اس لئے تمام ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ ڈیپارٹمنٹس میں اساتذہ اور سکالرز میں ریسرچ کلچر کو پروان چڑھائیں اور اچھے ریسرچرز کی حوصلہ افزائی کریں۔ اس لئے بہترین مقالہ جات لکھنے والے محقق کو ایک لاکھ روپے انعام دیا جائے گا ۔
 یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلبہ  و طالبات کے لئے ملازمت کے مواقع فراہم کرنے اور یونیورسٹی اور انڈسٹری کے درمیان تعاون بڑھانے کے سلسلے میں وائس چانسلر نے سی پیک اتھارٹی کے سربراہان سے ملاقاتیں کی ہیں  اور یونیورسٹی کے حوالے سے بریفننگ  دی گئی ہے ۔ مستقبل میں سی پیک کے حوالے سے بے شمار انجینئرنگ اور آئی ٹی سیکٹر میں نئی جابز پیدا ہوں گی اس حوالے سے خواجہ فرید یونیورسٹی کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔
 وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سلیمان طاہر نے جہاں یونیورسٹی کے اندر تعلیمی و غیر نصابی سرگرمیوں کو فروغ دیا ہے اور طلبہ و طالبات تعلیم کے ساتھ ساتھ سپورٹس کے میدان میں بھی اپنا سکہ منوار ہے ہیں وہیں خود وائس چانسلر عملی طور پر میدانِ عمل میں موجود ہیں۔ حال ہی میں انہوں ثقافتی ورثہ کو محفوظ بنانے کے لئے پتن مینارہ کا دورہ کیا ، وہاں سماجی و ثقافتی رہنماوں سے ملاقات میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خواجہ فرید یونیورسٹی رحیم یار خان میں موجود ثقافتی ورثہ کو محفوظ بنانے کے لئے ہر عملی اقدام میں شامل ہوگی ،جب خواجہ فرید یونیورسٹی کے فنانشل کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ محض دو سال قبل یہ یونیورسٹی 400 ملین روپے کے خسارے میں چل رہی تھی ، ملازمین کی تنخواہوں کو دو اقساط میں ادا کیا جارہا تھا مگر حیران کن حد تک جب سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیمان طاہر نے یونیورسٹی کی باگ ڈور سنبھالی تو وہی یونیورسٹی جو خسارے میں چل رہی تھی اس نے رواں سال سب سے پہلا سرپلس بجٹ پیش کیا ، اس وقت یونیورسٹی میں تین ارب روپے کے ترقیاتی کام جاری ہیں جبکہ ملازمین کی تنخواہوں کو سرکاری قوائد و ضوابط کے مطابق کرنے، اضافی اخراجات کو کم کرنے، کرایہ کی بجائے ذاتی بسوں کی خریداری، آج یونیورسٹی  مالی حوالے سے خسارے سے خودکفیل حالت میں اپنے پاوں پر کھڑی ہوگئی ہے اور آج خود ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے افسران خواجہ فرید یونیورسٹی کی مثال دیتے نظر آتے ہیں  کہ دیگر یونیورسٹیز کو بھی خواجہ فرید یونیورسٹی کے فنانشل ماڈل کو اپنانا چاہئے۔
 


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM