ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Nishat-1 حادثے سے بال بال بچ گیا.    Newly posted SSPs in Punjab police visit PSCA, PPIC3.    "  لڑکیاں صرف ماں کی کوکھ یا پھر قبر میں محفوظ ہیں" طالبہ نے خودکشی کر لی.    "میں ناگن، تو سپیرا " پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل.    "منی ہائسٹ "(Money Heist )کاآخری حصہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ریلیز کیا جائے گا.    NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.    NA-133 ضمنی انتخاب : جمشید اقبال چیمہ کی اپیلوں پر الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ جاری.   

انڈیا میں زیورات کے اشتہار میں خواجہ سرا ماڈل نے روایت توڑ کر دل جیت لیے

وجاہت اختر
09 Sep, 2021

09 ستمبر ، 2021

وجاہت اختر
09 Sep, 2021

09 ستمبر ، 2021

انڈیا میں زیورات کے اشتہار میں خواجہ سرا ماڈل نے روایت توڑ کر دل جیت لیے

post-title

بھیما جیولری، ٹرانس جینڈر،تصویر کا ذریعہBHIMA JEWELLERY
انڈیا میں روایتی زیورات کے ایک اشتہار میں خواجہ سرا ماڈل کو بطور ایک اداکارہ کام کرنے پر خوب داد مل رہی ہے۔
ایک منٹ 40 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں ٹرانس جینڈر خاتون کے کردار کی زندگی پر ایک نظر ڈالی گئی ہے۔ نوجوانی میں ان کے چہرے پر بال دکھائے گئے اور خود اعتمادی کی کمی دکھائی گئی۔ اور پھر وہ ایک بااعتماد دلہن کے طور پر نظر آتی ہیں۔
22 سالہ میرا سنگھانیا ریحانی نے کیرالا کی ایک جیولری کمپنی بھیما کے اشتہار میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے ان کے گھر والے انھیں محبت سے قبول کر لیتے ہیں۔ ان کی زندگی میں ہر کامیابی کا جشن زیورات کے تحفے سے منایا جاتا ہے۔
پیور ایز لو (محبت جیسا خالص) نامی یہ اشتہار یوٹیوب پر نو لاکھ بار دیکھا جا چکا ہے جبکہ اپریل میں اس کے ریلیز کے بعد سے انسٹاگرام پر 14 لاکھ ویوز آچکے ہیں۔ اسے بڑے پیمانے پر پسند کیا جا رہا ہے۔
میرا دلی یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں اور پارٹ ٹائم ماڈل ہیں جنھوں نے دو سال قبل اپنے خاندان سے ٹرانس جینڈر ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ جب انھیں اس اشتہار میں کام کرنے کے لیے کہا گیا تو پہلے وہ اتنی پُراعتماد نہیں تھیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں نہیں چاہتی تھی کہ میری ٹرانس شناخت کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ میں پریشان تھی کیونکہ فلم میں زندگی کے مختلف لمحات دکھائے جاتے ہیں۔ اور ٹرانس بننے سے پہلے میں ایک آدمی ہوں جس کی داڑھی ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’لیکن جب میں نے سٹوری پڑھی اور ڈائریکٹر کے بارے میں تحقیق کی تو میں نے ہاں کہہ دیا۔ اور میں خوش ہوں کہ میں نے اس اشتہار میں کام کیا۔ یہ کرنے کے بعد میں اپنی شناخت کے ساتھ زیادہ مطمئن ہوں۔‘


 


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM