ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

UET لاہور انڈرگریجویٹ داخلہ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ.    Major progress in Lahore Police Anti-Drug Campaign.    "میرا ڈونا بلیسڈ ڈریم "کا پہلا ٹریلر جاری.    "پاکستان ممکنہ بھارتی جارحیت کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے".    Paperless driving license system is going to be introduced in Punjab.    Foolproof Security on the eve of Urs of Data Ali Hajveri (RA) and Chehlum of Hazrat Imam Hussain (AS).    "سب کو بتانا مرشد آئے تھے، "عثمان مرزا کے تیور نہ بدلے.    "اپنے لیے اپنے ملک کیلیے ویکسین لگوائیں"،شیخ رشید کی قوم سے اپیل.    MoU signed between Punjab Hepatitis Control Program, Ferozsons Laboratories Limited and Inspectorate of Prisons.    Pakistan and Austria FMs meet in New York.    Prime Minister’s special aide Jamshed Cheema backs Qalandar Badshah.    "نیوزی لینڈ میں اتنی فورسز نہیں ہوں گی جتنی انہیں یہاں سیکیورٹی فراہم کی گئی".    Director General Punjab Emergency Department Regularized Services of 103 Rescuers.    CEO Vscopk Mian Afzal Javed distributes shields to participants.   

انڈیا میں زیورات کے اشتہار میں خواجہ سرا ماڈل نے روایت توڑ کر دل جیت لیے

وجاہت اختر
08 Sep, 2021

08 ستمبر ، 2021

وجاہت اختر
08 Sep, 2021

08 ستمبر ، 2021

انڈیا میں زیورات کے اشتہار میں خواجہ سرا ماڈل نے روایت توڑ کر دل جیت لیے

post-title

بھیما جیولری، ٹرانس جینڈر،تصویر کا ذریعہBHIMA JEWELLERY
انڈیا میں روایتی زیورات کے ایک اشتہار میں خواجہ سرا ماڈل کو بطور ایک اداکارہ کام کرنے پر خوب داد مل رہی ہے۔
ایک منٹ 40 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں ٹرانس جینڈر خاتون کے کردار کی زندگی پر ایک نظر ڈالی گئی ہے۔ نوجوانی میں ان کے چہرے پر بال دکھائے گئے اور خود اعتمادی کی کمی دکھائی گئی۔ اور پھر وہ ایک بااعتماد دلہن کے طور پر نظر آتی ہیں۔
22 سالہ میرا سنگھانیا ریحانی نے کیرالا کی ایک جیولری کمپنی بھیما کے اشتہار میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے ان کے گھر والے انھیں محبت سے قبول کر لیتے ہیں۔ ان کی زندگی میں ہر کامیابی کا جشن زیورات کے تحفے سے منایا جاتا ہے۔
پیور ایز لو (محبت جیسا خالص) نامی یہ اشتہار یوٹیوب پر نو لاکھ بار دیکھا جا چکا ہے جبکہ اپریل میں اس کے ریلیز کے بعد سے انسٹاگرام پر 14 لاکھ ویوز آچکے ہیں۔ اسے بڑے پیمانے پر پسند کیا جا رہا ہے۔
میرا دلی یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں اور پارٹ ٹائم ماڈل ہیں جنھوں نے دو سال قبل اپنے خاندان سے ٹرانس جینڈر ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ جب انھیں اس اشتہار میں کام کرنے کے لیے کہا گیا تو پہلے وہ اتنی پُراعتماد نہیں تھیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’میں نہیں چاہتی تھی کہ میری ٹرانس شناخت کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ میں پریشان تھی کیونکہ فلم میں زندگی کے مختلف لمحات دکھائے جاتے ہیں۔ اور ٹرانس بننے سے پہلے میں ایک آدمی ہوں جس کی داڑھی ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’لیکن جب میں نے سٹوری پڑھی اور ڈائریکٹر کے بارے میں تحقیق کی تو میں نے ہاں کہہ دیا۔ اور میں خوش ہوں کہ میں نے اس اشتہار میں کام کیا۔ یہ کرنے کے بعد میں اپنی شناخت کے ساتھ زیادہ مطمئن ہوں۔‘


 


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM