ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.    NA-133 ضمنی انتخاب : جمشید اقبال چیمہ کی اپیلوں پر الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ جاری.    UAE گولڈن جوبلی: گلوبل ولیج تصویری مقابلہ درہم 50,000 تک جیتنے کا موقع.    IMFکے ساتھ معاملات طے پا گئے ، معاہدہ اسی ہفتے ہو گا، شوکت ترین.    UET لاہور انڈرگریجویٹ داخلہ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ.    Major progress in Lahore Police Anti-Drug Campaign.    "میرا ڈونا بلیسڈ ڈریم "کا پہلا ٹریلر جاری.    "پاکستان ممکنہ بھارتی جارحیت کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے".    Paperless driving license system is going to be introduced in Punjab.    Foolproof Security on the eve of Urs of Data Ali Hajveri (RA) and Chehlum of Hazrat Imam Hussain (AS).   

 افغانستان ایشیائی ترقی کا ضامن

اسجد نواز وڑائچ
15 Oct, 2021

15 اکتوبر ، 2021

اسجد نواز وڑائچ
15 Oct, 2021

15 اکتوبر ، 2021

 افغانستان ایشیائی ترقی کا ضامن

post-title

 بڑے بے آبرو ہوکر  ترے کوچے سے ہم  نکلے ،کے مصداق امریکی افواج اور اتحادی ممالک کاذلت و رسوائی کا طوق گلے میں ڈال کر افغانستان سے رختِ سفر باندھناہی مقدر میں ٹھہرا.

منطقی بات تو یہ ہے کہ امریکہ نے  ڈھٹائی کے ساتھ جن طالبان کے سروں کی قیمت مقرر کی ہوئی تھی بالآخر اسے بے شرمی کے ساتھ انہی طالبان کے ہاتھوں اقتدار سونپ کر نو دو گیارہ ہونا پڑا۔ طالبان افغان سرزمین کی ایک لازوال حقیقت ہیں لہذا اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ  سقوطِ کابل کے بعد  طالبان کو پائیدار استحکام،شراکت اقتدار کی منتقلی ،پائیدار امن،بنیادی انسانی حقوق کی دستیابی اور اقتصادی ترقی و خوشحالی جیسے چیلنجز درپیش ہیں ۔چنانچہ طالبان عالمی سطح پر سیاسی تنہائی کے متحمل نہیں ہو سکتے ہیں ۔

اگر بات بدلتے ہوئے عالمی منظر نامہ  بارے کی جائے تو یہ آشکار ہے کہ  دوغلی پالیسی کا سر خیل امریکہ ایشیائی خطہ میں سیاسی تلاطم برپاکرنے کے  لیے ہاتھ پائوں مار رہاہے۔  ایک خود مختار، معاشی طور پر مضبوط اور عالمی سطح پر قابلِ قدر مقام و حیثیت کا حامل افغانستان ہمیشہ سے امریکہ کی آنکھوں میں کھٹکتا رہا ہے۔ اسی بنیاد پر نئی گیم وار کے تانے بانے بننے کے بہانے گھڑے جا رہے ہیں ۔ اسی مناسبت سے دھوکے بازی کا ماہر امریکہ   پاکستان سمیت دیگر ریاستوں پر سفارت کاری کے ذریعے اس حد تک اثراندا ز ہونا کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا معاملہ طوالت اختیار کرجائے۔ نیز افغانستان میں داعش کی موجودگی دہشت گردی کی نئی لہر کو جنم دینے اور طالبان حکومت کے لیے ٹیڑھے توے کی روٹی ثابت ہو سکتی ہے.   

یہ منطقی بات ہے کہ تکبر اور تنگ نظری  کا شکار امریکہ افغانستان ،چین اور پاکستان کو عدم استحکام ،معاشی بدحالی اور بدامنی جیسے مسائل سے دوچار کرنے کی جستجو میں سرگرم ِ عمل ہے۔اب وزیراعظم عمران خان اقوامِ متحدہ میں افغانستان کی موجودہ صورتحال بارے تفصیلی نقطہ نظر بیان کرنے کے ساتھ عالمی برادری کو افغان طالبان اور عوام کے ساتھ مثالی تعاون کی روش اختیار کرنے کی پرزور اپیل کررہے ہیں ۔نیزسیاسی مارکیٹ میں یہ خبر بھی گردش کررہی ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے  افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے عالمی سطح پر سیاسی ، معاشی اور سفارتی تعاون کی اپیل کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا جائے گا ۔ کیونکہ امریکہ کا کابل سے انخلاکے بعد خطہ بالخصوص افغانستان کے  بارے  مفادات اور نظریات میں واضح تبدیلی آچکی ہے۔

یہ بات ابہام سے بالاتر ہے کہ پاکستان کا داخلی استحکام بھی افغان بحران کے پرامن حل اور افغان معیشت کی مضبوطی سے نتھی کیا ہوا ہے۔ اس حقیقت کا ادراک جتنی جلدی ہو جائے اتنا ہی اچھا ہے کہ پاکستان تاریخی اعتبار سے کبھی بھی امریکہ کی آنکھوں کا تارا نہیں رہا ہے ۔عالمی برادری کے سامنے پاکستان نے افغانستان میں سیاسی و معاشی بحران کے تصفیہ طلب حل اور دو طرفہ باہمی تعاون کے لیے اپیل کرکے گیند امریکہ کی کورٹ میں پھینکی تو ہے جس کا نتیجہ پاکستان کے حق میں نکلتا سرِ دست نظر نہیں آرہا ہے۔

واقفانِ حال کے مطابق ایشیائی خطہ میں بدامنی ، انتشار ،ٹکرائواور تنازعات کی سیاست کے ساتھ معاشی عدم استحکام کو ہوا دینا طوطا چشم امریکہ کا طرئہ امتیاز رہا ہے۔ لہذا امریکہ سے خیر کی توقع رکھنا جاگتی آنکھوں خواب دیکھنے کے مترادف ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ دو طرفہ باہمی تعلقات کو مساواتی سطح پر ترتیب دینے کے ساتھ افغانستان کی سیاسی حکومت کو تسلیم کرنے میں پہل کرے ۔ پاک افغان دوطرفہ سفارتی تعلقات کی مضبوطی اور افغانستان کے معاشی استحکام کے لیے یہ اقدام ناگزیر ہے۔

علاوہ ازیں پاکستان نے   اقوامِ متحدہ میں افغانستان کو عالمی برادری میں جائز اور مستحق مقام دلوانے کے لیے نہ صرف متحرک و فعال کردار ادا کیا ہے بلکہ  افغان  بحران  کی طرف عالمی برادری کی توجہ بھی مبذول  کروائی ہے ۔ عالمی برادری کو حقیقت پسندی کی عینک پہن کر دیکھنا چاہیے کہ کابل میں اگر سیاسی و معاشی ڈھانچہ عدم استحکام سے دوچار ہوتا ہے تو  سنگین نتائج کے اثرات چار سو پھیل سکتے ہیں ۔ بدلتے ہوئے عالمی منظر نامہ پر افغان طالبان کی سیاسی حیثیت تاحال  افغان عوام کو بنیادی انسانی حقوق کی دستیابی اور بالخصوص خواتین کے حقوق بارے انکی سوچ اور نظریہ کے عملی جامہ پہنانے سے وابستہ ہے۔  بھارت کی افغانستان میں خارجہ محاذ پر شکست خاموشی سے پہلے کسی طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

بھارت کی افغان معاملات میں ناکامی کڑوی گولی کی مانند ہے جس کو سرِ دست ہضم کرنا اسکے بس کی بات نہیں ۔ لہذا بھارت پاکستان دشمنی کی پاداش میں افغان  امن عمل میں خلل اندازی کرکے خطہ میں تنائو اور ٹکرائو کی سیاست کو ہوا دینا چاہتا ہے۔ اس پہ طرفہ تماشا یہ کہ امریکی سینیٹ میں پیش کردہ بل سے پاکستان کی آنکھیں کھل جانی چاہیے جس کی رو سے ا مریکہ  کاطالبان کا ساتھ دینے والے ممالک کے خلاف کاروائی کا اعلان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی سوچ اور نظریہ عالمی سطح پر انتشار، دھوکہ بازی اور بد اعتمادی پر مبنی ہے۔ نیز یہ  امریکی پالیسی کا حصہ ہے کہ ایشیائی خطہ میں طالبان کے سیاسی و معاشی  استحکام کو زِ چ پہنچائی جائے ۔تعصب اور اجارہ داری کی سیاست کا پروردہ امریکہ مشرقِ وسطی میں انتہاپسندی ،خانہ جنگی ،معاشی بدحالی اور دہشت گردی کو ہو ا دینا چاہتا ہے۔جس کی غمازی امریکی سینیٹ میں حالیہ پیش کردہ بل ہے جس میں 2001سے 2020 تک طالبان کی امداد کرنے والے ممالک کے خلاف کاروائی کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے ۔

منطقی بات یہ ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مثالی روپ دینے کے لیے عملی کاوشیں بروئے کار لائے اور اس کے ساتھ امریکہ کے خدشات دور کرنے کے جتن بھی کیے جائے ۔

دوسری طرف افغانستان کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت دینانہایت خوش آئند ہے۔ طالبان کو سیاسی قوت کے طور پر تسلیم کرنا اور  افغانستان ، پاکستان ،چین اور روس کا آپس میں ایک اقتصادی بلاک کی تشکیل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ افغانستان میں ناکامی کا امریکی ملبہ پاکستان کی جھولی میں بزورِ قوت ڈالا جارہا ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ سفارتی ، سیاسی  مفاہمتی اورمساوی بنیادوں پر دوطرفہ تعلقات کی کامیابی کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہے ۔  خودغرضی و مکاری کے لبادہ میں چھپے امریکی اثرورسوخ سے سرِ دست پاکستان کے لیے نجات ممکن نہیں ہے ۔

لہذا یہ لازم ہے کہ جی  حضوری کا راگ الاپ کر وقت گزارا جائے لیکن پاکستان کے لیے  حالات کی سنگینی کا ادراک  کرتے ہوئے یہ لازم ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام اور معاشی خوشحالی       کے لیے کلیدی کردار ادا کرے ۔ امریکہ اور اس کے حواریوں کا یہ عزم واضح ہے  کہ افغانستان کو معاشی  ناکہ بندی  کرتے ہوئے عالمی سطح پر تنہا رکھا جائے اور مشرقِ وسطی کو ایک نہ ختم ہونیوالی جنگ و جدل کی بھٹی میں جھونک دیا جائے ۔

یہ امر قابلِ قدر ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کے لیے ایشیائی خطہ میں غیر معمولی اتحاد اور اتفاق کی فضا پیدا کرنے میں سفارتی سطح پر عملی کردار ادا کرے ۔علاوہ ازیں پاکستان مزید کسی پرائی جنگ کاایندھن بننے کی بجائے عالمی طاقتوں بالخصوص چین اور روس کو  مضبوط و مربوط خارجہ پالیسی کے ذریعے افغانستان میں حقیقی امن ، استحکام اور معاشی خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے مخلصانہ کردار ادا کرے تاکہ مشرقِ وسطی کو ممکنہ جنگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں سے بچایا جا سکے ۔

اس حقیقت کو جتنی جلدی تسلیم کر لیا جائے اتنا ہی بہتر ہے کہ ایشیائی خطہ میں ترقی ، پائیدار امن اور معاشی استحکام کا سی پیک افغانستان سے ہو کر ہی گزرتا ہے۔ 
 

 
   
 


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM